پاکستان 4 ارب ڈالر کے جے ایف-17 طیارے اور فوجی سازوسامان لیبیا کو فروخت کریگا
👁️ 410 بار دیکھا گیا
پاکستان 4 ارب ڈالر کے جے ایف-17 طیارے اور فوجی سازوسامان لیبیا کو فروخت کریگا
اسلام آباد (ڈیلی اردو/روئٹرز/بی بی سی) پاکستان نے مشرقی لیبیا میں برسراقتدار لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) کو چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا فوجی سازوسامان فروخت کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے، حالانکہ شمالی افریقہ کے اس منقسم ملک پر اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحہ کی پابندی عائد ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے چار پاکستانی حکام کے حوالے سے آج بروز پیر اطلاع دی ہے کہ یہ معاہدہ پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ ہفتے مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی کے دورے کے دوران ایل این اے کے نائب کمانڈر ان چیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان ملاقات کے بعد طے پایا۔ دفاعی امور سے وابستہ ان چاروں حکام نے معاہدے کی حساس نوعیت کے باعث اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز سے بات کی۔
پاکستان کی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور فوج کے ترجمان نے اس حوالے سے روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
اس معاہدے کو پاکستان کی تاریخ میں ہتھیاروں کی فروخت کے سب سے بڑے معاہدوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ لیبیا میں سن 2011 میں نیٹو کی حمایت یافتہ بغاوت کے نتیجے میں معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد سے یہ ملک حریف دھڑوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ اس صورتحال میں لیبیا کے ساتھ کسی بھی اسلحہ معاہدے کو ملک میں جاری عدم استحکام کے تناظر میں کڑی جانچ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
روئٹرز کی جانب سے دیکھے گئے معاہدے کے ایک مسودے کے مطابق اس میں 16 جے ایف-17 لڑاکا طیاروں اور 12 سپر مشاق تربیتی طیاروں کی خریداری شامل ہے۔ جے ایف-17 ایک کثیرالمقاصد جنگی طیارہ ہے، جسے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے جبکہ سپر مشاق بنیادی پائلٹ تربیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایک پاکستانی اہلکار نے اس فہرست کی تصدیق کی جبکہ دوسرے نے کہا کہ اس میں درج تمام ہتھیار معاہدے کا حصہ ہیں، تاہم ان کی درست تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔
ایک اہلکار کے مطابق یہ معاہدہ زمینی، بحری اور فضائی سازوسامان کی فراہمی پر مشتمل ہے، جو ڈھائی سال میں مکمل کیا جائے گا، اور اس میں جے ایف-17 طیارے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ دو حکام نے معاہدے کی مالیت چار ارب ڈالر سے زائد بتائی، جبکہ دیگر دو کے مطابق اس کی مجموعی قیمت 4.6 ارب ڈالر ہے۔
ایل این اے کے سرکاری میڈیا چینل نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ دھڑے نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس میں اسلحہ کی فروخت، مشترکہ تربیت اور فوجی پیداوار شامل ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ الحدث ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں حفتر نے کہا، ’’ہم پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک فوجی تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں۔‘‘
بن غازی کے حکام نے بھی فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد، جس کی قیادت وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ کر رہے ہیں، مغربی لیبیا کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ حفتر کی ایل این اے مشرقی اور جنوبی علاقوں بشمول بڑے تیل کے ذخائر پر قابض ہے اور وہ مغربی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی۔
لیبیا پر سن 2011 سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی نافذ ہے، جس کے تحت ہتھیاروں اور متعلقہ سامان کی منتقلی کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری ضروری ہے۔ دسمبر 2024ء میں اقوام متحدہ کو پیش کی گئی ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ لیبیا پر اسلحہ پابندی ’’غیر مؤثر‘‘ ثابت ہوئی ہے اور بعض غیر ملکی ریاستیں پابندی کے باوجود مشرقی اور مغربی لیبیا کی افواج کو فوجی تربیت اور مدد فراہم کرنے میں کھل کر شامل ہو رہی ہیں۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پاکستان یا لیبیا نے اقوام متحدہ کی پابندی سے کسی استثنا کے لیے درخواست دی ہے یا نہیں۔
تین پاکستانی حکام نے کہا کہ اس معاہدے سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ ایک اہلکار نے کہا کہ پاکستان لیبیا کے ساتھ معاہدہ کرنے والا واحد ملک نہیں۔ دوسرے نے کہا کہ حفتر پر کوئی پابندیاں عائد نہیں، جبکہ تیسرے کے مطابق بن غازی کے حکام کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، خاص طور پر ایندھن کی برآمدات میں اضافے کے باعث۔
پاکستان حالیہ برسوں میں دفاعی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں دہائیوں پر محیط انسداد شورش سے نمٹنے کے تجربے اور ملکی دفاعی صنعت کا سہارا لیا جا رہا ہے، جو طیارہ سازی، بکتر بند گاڑیوں، اسلحہ اور بحری جہازوں کی تیاری تک پھیلی ہوئی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو الحدث ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا، ’’بھارت کے ساتھ ہماری حالیہ جنگ نے دنیا کو ہماری جدید صلاحیتوں کو ظاہر کیا۔‘‘
لیبیا کے ساتھ یہ معاہدہ شمالی افریقہ میں پاکستان کی موجودگی کو وسعت دے گا، جہاں علاقائی اور عالمی طاقتیں لیبیا کے منقسم سکیورٹی نظام اور تیل سے تقویت یافتہ معیشت پر اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
کرم میں نادرا کی موبائل وین پر مسلح افراد کی فائرنگ
21/July/2026 👁️ 142 بار دیکھا گیا
تجارتی جہازوں پر حملہ کیا تو طاقت سے جواب دینگے، سعودی فوجی اتحاد کی حوثیوں کو وارننگ
21/July/2026 👁️ 170 بار دیکھا گیا
ایران میں سرکردہ سنی عالم محمد انور ریگی فائرنگ سے ہلاک
21/July/2026 👁️ 286 بار دیکھا گیا
روسی دارالحکومت ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، 400 سے زائد ڈرونز استعمال، جنگ میں نئی شدت
21/July/2026 👁️ 260 بار دیکھا گیا
نوشہرہ میں امن جرگہ کے رہنما اعجاز خان ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک، تحقیقات شروع
21/July/2026 👁️ 154 بار دیکھا گیا
پاکستان بھارت سرحد پر رات بھر گولہ باری
20/July/2026 👁️ 320 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8962 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4813 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3574 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3456 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2566 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2320 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C