10/April/2025

پاکستان کو بڑا دھچکا: ممبئی حملوں کا ملزم تہور حسین رانا، امریکہ سے بھارت منتقل

👁️ 167 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کو بڑا دھچکا: ممبئی حملوں کا ملزم تہور حسین رانا، امریکہ سے بھارت منتقل

پاکستان کو بڑا دھچکا: ممبئی حملوں کا ملزم تہور حسین رانا، امریکہ سے بھارت منتقل

واشنگٹن (ش ح ط) امریکہ نے ممبئی حملوں کے ملزم تہور حسین رانا کو بھارت کے حوالے کر دیا ہے۔ تہور رانا، جو کہ پاکستانی نژاد کینیڈین شہری ہیں، کو ایک دن قبل امریکہ سے بھارت منتقل کیا گیا۔ بھارتی حکام نے انہیں نئی دہلی پہنچا کر انتہائی سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے مطابق رانا پر 2008 میں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

رانا کی بھارت حوالگی کے فیصلے کے بعد، امریکی سپریم کورٹ نے جنوری میں ان کی درخواست مسترد کی تھی، جس کے بعد بھارت کو ان کی حوالگی ممکن ہوئی۔ رانا پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ کی مدد کی، جو ان حملوں کا ذمہ دار گروہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے، رانا کے ساتھی ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے گواہی دی تھی کہ رانا کی امیگریشن فرم کو بھارت میں حملوں کے اہداف کی نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

پاکستانی شہریت کی حیثیت اور ردعمل

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ تہور حسین رانا نے گزشتہ دو برس سے پاکستانی شہریت کی تجدید نہیں کرائی۔ ان کے مطابق، دفتر خارجہ کے ریکارڈ کے مطابق، رانا نے شہریت کی تجدید کی درخواست بھی نہیں کی تھی۔ پاکستان حکومت اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی سفارتی مداخلت سے گریز کر رہی ہے۔

رانا کا عدالتی عمل

تہور رانا کو ابتدائی طور پر نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا جائے گا، جہاں انہیں سخت سکیورٹی میں رکھا جائے گا۔ اس کے بعد، ممبئی کی ایک جیل میں بھی ان کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کیے گئے ہیں تاکہ ان پر مقدمہ چلایا جا سکے۔ رانا کو 2013 میں امریکی عدالت نے اپنے دوست ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے ساتھ مل کر ممبئی حملوں اور ڈنمارک میں حملے کی ناکام سازش میں کردار ادا کرنے پر 14 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں، ڈیوڈ ہیڈلی نے وعدہ معاف گواہ بن کر عدالت میں انکشافات کیے تھے۔

ممبئی حملوں کا پس منظر

یاد رہے کہ 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں ہونے والے خونی حملے میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 25 غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کا الزام پاکستانی تنظیم لشکر طیبہ پر عائد کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے دوران ممبئی پولیس نے رانا اور ہیڈلی کے درمیان ہونے والی ای میلز کا پتا چلایا، جن میں حملے سے متعلق بات چیت شامل تھی۔ ان ای میلز میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے افسر میجر اقبال کا بھی ذکر تھا، جنہیں بھارت نے ملزمان کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

رانا کا پس منظر اور کردار

تہور حسین رانا پاکستان میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ انہوں نے پاکستان فوج کے میڈیکل کور میں خدمات انجام دیں، پھر کینیڈا منتقل ہو کر 2001 میں کینیڈین شہریت حاصل کی۔ 2009 میں اپنی گرفتاری سے پہلے رانا نے شکاگو میں ایک امیگریشن اور ٹریول ایجنسی کھولی تھی۔ اکتوبر 2009 میں گرفتاری کے بعد ایک بیان میں رانا نے اعتراف کیا تھا کہ لشکر طیبہ ایک دہشت گرد تنظیم تھی اور ہیڈلی نے پاکستان میں لشکر طیبہ کے تربیتی کیمپوں میں شرکت کی تھی۔

عدالتی انکشافات اور دوستی کا پس منظر

رانا اور ہیڈلی بچپن کے دوست تھے اور دونوں نے ایک ہی سکول میں پانچ سال تک تعلیم حاصل کی۔ شکاگو میں دونوں دوبارہ ملے اور بعد میں ان دونوں نے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ ہیڈلی نے لشکر طیبہ کے لیے زیادہ فعال طور پر کام کیا، لیکن دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں رانا بھی شریک تھا۔

بھارت کی کامیابی اور پاکستان کیلئے چیلنج

بھارت کی جانب سے تہور رانا کی حوالگی کا مطالبہ کئی سالوں سے جاری تھا اور یہ پیش رفت بھارت کی ایک بڑی کامیابی اور پاکستان کے فوج و خفیہ اداروں کے لیے ایک دھچکا تصور کی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورِ صدارت میں اعلان کیا تھا کہ ممبئی حملوں کی سازش میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اب 17 برس بعد بھارت اپنے اس مطالبے کی تکمیل کو پہنچا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C