10/October/2025

پاکستان کی بمباری پر افغان طالبان کا شدید ردعمل، افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات

👁️ 227 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان کی بمباری پر افغان طالبان کا شدید ردعمل، افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات

پاکستان کی بمباری پر افغان طالبان کا شدید ردعمل، افغان خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات

کابل +  پشاور  (نمائندگان  ڈیلی اردو) افغان طالبان کی حکومت نے جمعے کے روز پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے پکتیکا کے سرحدی علاقے مارغی میں شہری مارکیٹ پر بمباری کی اور افغان سرزمین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی۔

 

افغان وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، ’’پاکستان نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا کے مارغی علاقے میں بمباری کی اور کابل کی خودمختار سرزمین کی بھی خلاف ورزی کی۔‘‘

 

پاکستانی فوج کے ترجمان، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ 10 اکتوبر کو پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستانی کارروائیاں صرف ان دہشت گردوں کے خلاف ہیں جو افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے۔ تاہم، انہوں نے اس الزام کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ افغانستان پاکستان کا برادر پڑوسی ملک ہے اور پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستان افغان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔‘‘

 

فوجی ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کو اپنی سرحد کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

 

یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ کا سبب بنی ہے، خاص طور پر اس وقت جب افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر بات چیت جاری ہے۔

 

پریس کانفرنس کے دوران دو مرتبہ یہ سوال کیا گیا کہ آیا پاکستانی فورسز نے سرحد پار افغانستان میں فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پہلی مرتبہ اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’’یہ جو آپ نے سٹرائیک کی بات کی، اس پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر اور افغان (طالبان حکومت کے) ترجمان کے بیان کو نوٹ کیا گیا ہے۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا، ’’افغانستان ہمارا برادر پڑوسی ملک ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی ہے۔ افغان حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔‘‘

 

لیفٹیننٹ جنرل نے کہا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی چل رہی ہے، ساتھ ہی لوگ علاج کے لیے بھی افغانستان آتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور علاقائی سالمیت کے لیے جو بھی ضروری اقدامات ہیں، وہ کیے جائیں گے اور کیے جاتے رہیں گے۔

 

دوسری بار پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہ کیا گذشتہ شب کابل میں چار مقامات پر فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں اور ٹی ٹی پی کے رہنما نور ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان نے کہا، ’’افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے شواہد موجود ہیں اور پاکستان کی سرحدی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C