10/October/2025

پاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں

👁️ 3197 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں

پاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستانی جنگی طیاروں نے افغانستان کے دارالحکومت کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔

 

پاکستانی ذرائع کے مطابق کارروائیاں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ہیں، جس میں متعدد مشتبہ عسکریت پسند ہلاک اور زخمی ہوئے۔ 

 

ذرائع نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کابل میں موجود تھے اور ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، مگر وہ بال بال بچ گئے۔

 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکوں کی تصدیق کی، مگر کہا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان یا تباہی کی حتمی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ 

 

پکتیکا میں کارروائی خاص طور پر پاکستان کے سرحدی اضلاع کے قریب کی گئی، جبکہ کابل، جلال آباد اور خوست میں بھی فضائی حملے کیے گئے۔ 

 

پکتیکا صوبہ پاکستان کے بلوچستان کے ضلع ژوب اور خیبرپختونخوا کے جنوبی اور شمالی وزیرستان کے ساتھ متصل ہے، جو عسکریت پسند گروپوں کے نقل و حرکت کے لیے حساس اور خطرناک علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

 

خوست افغانستان کا مشرقی صوبہ ہے جس کی سرحدیں پاکستان کی قبائلی ضلع شمالی وزیرستان اور ضلع کرم سے ملتی ہیں۔

 

افغان ذرائع نے بتایا کہ حملے رات گئے کیے گئے اور شہر میں کئی مقامات پر دھماکوں اور طیاروں کی پرواز کی آوازوں سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ 

 

افغان صحافیوں نے بتایا کہ کابل کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کے بعد لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے اور سڑکوں پر ہجوم دیکھنے کو ملا۔ 

 

افغان صحافیوں نے ڈیلی اردو کو بتایا کہ اس دوران کسی ملکی و غیر ملکی صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی، تاہم صحافیوں کی جانب سے فراہم کی گئی ابتدائی معلومات کے مطابق کارروائیاں مؤثر رہی ہیں اور کچھ اہم کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

 

پاکستان نے تاحال ان حملوں کے حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔

 

ان حملوں سے پہلے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "اب بس بہت ہوگیا، مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردوں کا سر کچلنا ہوگا۔" 

 

انہوں نے واضح کیا کہ بعض عناصر کی جانب سے دہشت گردوں کو ملنے والا تحفظ ناقابل قبول ہے اور قوم اب متحد ہو کر فیصلہ کن اقدامات کی حمایت کرے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ملک کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب کسی کو بھی اس لکیر کو مٹانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

پاکستانی وزیراعظم نے قوم سے اپیل کی کہ وہ متحد رہیں اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کی حمایت کریں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ "شہدا کے خون نے یہ لکیر کھینچ دی ہے کہ ہم کس کے ساتھ ہیں اور کسی کو اس لکیر کو مٹانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔" 

 

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی فوج اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اور عملی اقدامات اٹھائے تاکہ ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

 

پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمان میں کہا کہ حکومت اور فوج کا صبر لبریز ہو چکا ہے اور جو لوگ شدت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں، انہیں بھی نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ 

 

انہوں نے کہا کہ اگلے چند دنوں میں ایک وفد کابل بھیجا جائے گا تاکہ افغان حکام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ یہ صورتِ حال ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ 

 

خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ تین سال قبل افغانستان کے دورے کے دوران انہوں نے افغان حکام کے سامنے اس مسئلے کو اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ نامعلوم عسکری گروپوں کی نقل و حرکت پر قابو پایا جائے۔

 

عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدام ہیں۔ 

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C