22/February/2025

پولیس پر حملہ: لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبد العزیز کی اہلیہ سمیت 13 افراد گرفتار

👁️ 432 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پولیس پر حملہ: لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبد العزیز کی اہلیہ سمیت 13 افراد  گرفتار

پولیس پر حملہ: لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبد العزیز کی اہلیہ سمیت 13 افراد گرفتار

اسلام آباد (ڈیلی اردو) انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان اور دیگر ملزمان کیخلاف سرکاری عملے پر حملے اور فائرنگ کے کیس میں 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

لال مسجد کے سابق امام مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان سمیت متعدد افراد کیخلاف شہزاد ٹاؤن تھانے میں مجسٹریٹ مرتضیٰ چانڈیو کی مدعیت میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

متن کے مطابق خواتین اور مردوں نے سی ڈی اے کی گاڑیاں توڑیں، پولیس اہلکاروں سے اینٹی رائٹ کٹس بھی چھینی گئیں، ام حسان سمیت متعدد افراد نے سی ڈی اے عملے پر فائرنگ کی۔

مقدمے میں مزید کہا گیا ہے کہ دو گولیاں سرکاری گاڑیوں کو جاکر لگیں، ام حسان سمیت 9 خواتین کو گرفتار کیا گیا، گرفتار افراد میں 8 مرد بھی شامل ہیں، ایک پستول بھی برآمد کرلیا۔

پولیس نے مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان سمیت دیگر ملزمان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا، جن میں 6 خواتین اور 7 مرد شامل ہیں، عدالت نے تمام ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس موقع پر دلائل دیتے ہوئے وکیل صفائی نے کہا کہ ملزمان کو مسجد سے گرفتار کیا گیا، پولیس نے کیا چیز برآمد کرنی ہے؟۔ ام حسان نے کہا کہ مسجد کا تنازعہ چل رہا تھا، انتظامیہ سے مذاکرات کیلئے گئے تو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے کہا کہ سی ڈی اے کی جانب سے مدرسہ کیلئے مختص پلاٹ پر تعمیرات جاری تھیں، ملزمان نے حملہ کیا اور تعمیراتی سامان اٹھا کر لے گئے، ملزمان سے ریکوری کرنی ہے، 5 دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

جج طاہر عباس سپرا نے پوچھا کہ جب ملزمان موقع سے گرفتار ہوئے تو کیا ریکوری کرنی ہے؟۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان کے دیگر شریک ساتھیوں کو بھی گرفتار کرنا ہے، جج نے کہا کہ ام حسان پہلے بھی آپ 4 کیسز میں اشتہاری ہیں۔ جس پر وکیل ام حسان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کیسز کا ابھی معلوم ہوا، عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیئے کہ مساجد، چرچ، مندر اور امام بارگاہوں پر لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟، ہم عبادت گاہوں پر لڑنا کب چھوڑیں گے؟۔

خیال رہے کہ مولانا عبدالعزیر 1998 سے 2004 تک لال مسجد کے سرکاری خطیب رہے ہیں اور 2007 کے لال مسجد آپریشن میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ 2007 میں ہونے والے لال مسجد آپریشن میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسجد میں مبینہ طور پر پناہ لیے ہوئے عسکریت پسندوں کے درمیان کئی روز تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں واقع ہوئی تھیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C