06/May/2026

چارسدہ: داعش کے حملے میں معروف عالم دین مولانا محمد ادریس ہلاک

👁️ 302 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
چارسدہ: داعش کے حملے میں معروف عالم دین مولانا محمد ادریس ہلاک

چارسدہ: داعش کے حملے میں معروف عالم دین مولانا محمد ادریس ہلاک

چارسدہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مسلح حملے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سرپرست اور عالم دین مولانا محمد ادریس ہلاک ہو گئے جبکہ ان کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔

 

پولیس کے مطابق واقعہ تحصیل اتمانزئی کے علاقے طارق آباد میں پیش آیا، جہاں مولانا محمد ادریس اپنے گھر سے مدرسہ جامعہ نعمانیہ جا رہے تھے کہ دو موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے محافظ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔

 

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے مطابق واقعے کو ابتدائی طور پر منظم ٹارگٹ کلنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ 

 

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ سیف سٹی کیمروں اور قریبی مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر کے ملزمان کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ واقعے کی تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

 

ڈسٹرکٹ ہسپتال چارسدہ کے مطابق مولانا ادریس کو دو گولیاں لگیں، ایک گردن اور دوسری سر کے پچھلے حصے میں، اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو چکے تھے۔ بعد ازاں ان کی میت ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

 

واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، چارسدہ کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں جبکہ اہم سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

 

مولانا محمد ادریس کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے ترنگزئی میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ سہیل آفریدی بھی جنازے میں شریک ہوئے۔

 

اس واقعے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور حکومت سے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

 

بعد ازاں اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش خراسان نے قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی اس کے جنگی نیٹ ورک کا حصہ تھی۔ 

 

داعش ماضی میں بھی پاکستان اور افغانستان میں مذہبی شخصیات، سکیورٹی فورسز اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے میں ملوث رہی ہے۔

 

مزید بتایا جاتا ہے کہ داعش خراسان خطے میں متعدد خودکش حملوں اور بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے، جن میں شیعہ اور سکھ برادریوں سمیت مختلف مذہبی گروہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 

 

حالیہ برسوں میں یہ گروہ خطے میں شدت پسند کارروائیوں میں سرگرم رہا ہے۔

 

سکیورٹی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران مذہبی رہنماؤں، سیاسی شخصیات اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ایک تشویشناک رجحان ہے، جس نے خطے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C