چین اور بھارت کا متنازعہ سرحد پر گشت کے معاہدے پر اتفاق
👁️ 108 بار دیکھا گیا
چین اور بھارت کا متنازعہ سرحد پر گشت کے معاہدے پر اتفاق
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/رائٹرز) بھارتی وزارت خارجہ کا کہا ہے کہ بھارت اور چین نے ہمالیہ خطے میں اپنی متنازعہ سرحد پر فوجی گشت سے متعلق ایک معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیشرفت دونوں ممالک کے مابین 2020 میں شروع ہونے والے طویل سرحدی تنازعے کے بعد سامنے آئی ہے۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا کہ یہ معاہدہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر فوجیوں کو ہٹانے کی جانب لے جائے گا، جو کہ ان دونوں ایشیائی ممالک کے درمیان ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر واقعہ مشترکہ سرحد ہے۔
مصری نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ 2020 میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپ کے بعد شمالی لداخ کے علاقے میں ان کی متنازعہ سرحد پر تعینات دسیوں ہزار اضافی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ بیجنگ کی جانب سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔ مصری نے کہا، ”یہ معاہدہ بھارت اور چین کے سفارتی اور فوجی مذاکرات کاروں کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی ادوار کی بات چیت کا نتیجہ ہے اور یہ کہ 2020 میں ان علاقوں میں، جو مسائل پیدا ہوئے تھے یہ آخر کار انہیں ایک حل کی طرف لے جائے گا۔‘‘
مودی کا مجوزہ دورہ ماسکو
یہ اعلان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے برکس سربراہی اجلاس کے لیے روس کے دورے کے موقع پر کیا گیا، جس میں چین بھی شامل ہے۔ مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ مودی تقریب کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔ بھارت اور چین کے مابین تعلقات جولائی 2020 میں اس وقت خراب ہوئے، جب ایک سرحدی جھڑپ میں کم از کم 20 بھارتی اورچار چینی فوجی ہلاک ہوئے۔
یہ صورت حال اس ناہموار پہاڑی علاقے میں ایک طویل عرصے سے جاری تنازعے میں بدل گئی تھی، جہاں ہر طرف سے دسیوں ہزار فوجی اہلکار تعینات ہیں، جنہیں توپ خانے، ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی حمایت حاصل ہے۔
لائن آف ایکچوئل کنٹرول چین اور بھارت کے زیر قبضہ علاقوں کو مغرب میں لداخ سے لے کر بھارتی مشرقی ریاست اروناچل پردیش تک الگ کرتی ہے، جس پر چین اپنی پوری ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ بھارت اور چین دونوں نے پینگونگ تسو جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں، گوگرا اور وادی گالوان کے کچھ علاقوں سے فوجیں ہٹا لی ہیں لیکن مختلف تہوں کی صورت میں اضافی فوجیوں کی تعیناتی کو برقرار رکھا گیا ہے۔
بھارتی اور چینی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں نے فوجی جھڑپ کے بعد سے کئی ادوار پر مشتمل بات چیت کی ہے تاکہ کشیدگی والے علاقوں سے فوجیوں کو ہٹانے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ بھارت اور چین کے مابین 1962ء میں سرحدی جنگ لڑی گئی تھی۔ ایکچوئل لائن آف کنٹرول دونوں ممالک کے علاقائی دعووں کے بجائے اصل میں ان کے زیر کنٹرول کے علاقوں کو تقسیم کرتی ہے۔ بھارت کے مطابق ڈی فیکٹو بارڈر 3,488 کلومیٹر (2,167 میل) طویل ہے لیکن چین اس سے کافی کم تعداد کا دعویٰ کرتا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بدخشاں میں طالبان کے کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 132 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، 20 میزائل داغے جانے پر اردن کا بیان
09/September/2026 👁️ 113 بار دیکھا گیا
امریکا کا 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملوں کی ویڈیوز بھی جاری
09/September/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، اہم شاہراہوں پر آمدورفت بند
09/September/2026 👁️ 146 بار دیکھا گیا
ایران : سیستان و بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 9 گرفتار
08/September/2026 👁️ 121 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26283 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15529 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11817 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9114 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7403 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5115 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C