13/January/2026

ڈرون مداخلت بند کرو، ورنہ نتائج بھگتو گے: بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو وارننگ

👁️ 245 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ڈرون مداخلت بند کرو، ورنہ نتائج بھگتو گے: بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو وارننگ

ڈرون مداخلت بند کرو، ورنہ نتائج بھگتو گے: بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو وارننگ

نئی دہلی (ڈیلی اردو/روئٹرز) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق انڈین آرمی چیف، جنرل اپندر دویویدی نے منگل 13 جنوری کے روز کہا کہ پاکستان سے بھارت میں ڈرونز کے ذریعے مداخلت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں اور اب پاکستان آرمی کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کو باقاعدہ طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اس مداخلت کو بند کیا جائے۔

 

نئی دہلی سے ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق انڈین آرمی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ایسی تازہ ترین 'مداخلت‘ دونوں حریف ہمسایہ ممالک کے مابین متنازعہ خطے جموں کشمیر کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں اتوار 11 جنوری کے روز کی گئی اور اس دوران پانچ ڈرونز بھارت کے زیر انتظام جموں کے سرحدی علاقے میں داخل ہو گئے تھے۔

 

اس کے علاوہ بھارتی فوجی ذرائع ہی کے مطابق گزشتہ جمعے کے روز بھی پاکستان سے آنے والے ایک ڈرون نے ایسی ہی مداخلت کی تھی، جس دوران مبینہ طور پر چند ہتھیار بھارت کے زیر انتظام علاقے میں پھینکے گئے تھے۔

 

انڈین آرمی کے ذرائع نے کہا کہ اس ڈرون سے مبینہ طور پر دو پستول، گولیوں سے بھری ہوئی تین میگزینیں اور ایک دستی بم زمین پر گرائے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں متعلقہ علاقے کی تلاشی کے دوران حکام نے قبضے میں لے لیا تھا۔

 

بھارتی آرمی چیف کی سالانہ پریس کانفرنس

 

انڈین آرمی چیف اپندر دویویدی نے منگل کے روز کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دن بھی بھارتی فضائی حدود میں کم از کم آٹھ ایسے ڈرونز دیکھے گئے تھے، جو پاکستان سے پرواز کرتے ہوئے آئے تھے۔

 

بھارت میں 15 جنوری کو منائے جانے والے آرمی ڈے سے قبل اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں جنرل اپندر دویویدی نے نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا، ''یہ ڈرونز میری رائے میں دفاعی ڈرونز تھے، جو یہ دیکھنے کے لیے فضا میں تھے کہ آیا ان کے دکھائی دینے کے بعد کوئی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔‘‘

 

جنرل دویویدی نے صحافیوں کو بتایا، ''یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ڈرونز اس لیے بھیجے گئے ہوں کہ دیکھا جا سکے کہ آیا بھارتی فوج کی موجودگی یا مستعدی میں کوئی رخنے ہیں، جن کو استعمال کرتے ہوئے وہ دہشت گردوں کو بھیج سکیں۔‘‘

 

ملٹری آپریشنز کے سربراہان کے مابین بات چیت

 

انڈین آرمی چیف اپندر دویویدی نے کہا کہ اس پس منظر میں دونوں حریف ہمسایہ ممالک کی افواج کے ملٹری آپریشنز کے سربراہان کے مابین منگل ہی کے دن ٹیلی فون پر بات چیت بھی ہوئی۔

 

جنرل دویویدی نے کہا، ''آج اس بارے میں دونوں ممالک کے مابین بات ہوئی اور انہیں بتا دیا گیا کہ یہ (مداخلت) ناقابل قبول ہے اور اسے بند کیا جائے۔ یہ پیغام ان (پاکستان) تک پہنچا دیا گیا ہے۔‘‘

 

ڈرونز کے ذریعے اس مبینہ مداخلت کے بارے میں بھارتی میڈیا کی رپورٹوں میں دعوے کیے گئے ہیں کہ یہ مداخلت فوجی ڈرونز کے ذریعے کی گئی۔

بھارتی فوج کے سربراہ کے اس بارے میں دعووں کے جواب میں پاکستان کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

 

گزشتہ برس مئی میں ہونے والا فوجی تصادم

 

پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی طاقتیں ہیں اور شروع سے ہی ایک دوسرے کے حریف بھی، جو آپس میں متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں۔ دونوں کے مابین گزشتہ لڑائی پچھلے برس مئی میں چار روز تک جاری رہی تھی، جس دوران دونوں نے ایک دوسرے پر بڑے فضائی حملے کیے تھے۔

 

یہ خونریز تصادم بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندو سیاحوں پر کیے جانے والے مسلح عسکریت پسندوں کے اس حملے کے بعد ہوا تھا، جس میں 26 افراد مارے گئے تھے۔ اس حملے کے بعد دونوں ممالک کے مابین ہونے والا تصادم گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے خونریز لڑائی تھا۔

 

نئی دہلی کا الزام ہے کہ سیاحوں پر حملہ کرنے والے عسکریت پسندوں کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔ اسلام آباد کی طرف سے تاہم اس الزام کی بھرپور تردید کی جاتی ہے۔

 

مئی میں ہونے والی پاک بھارت جھڑپوں میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف جنگی طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال بھی کیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں طرف درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C