20/May/2026

کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار میں خونریز جھڑپ، کمانڈر سمیت 18 جنگجو مارے گئے

👁️ 445 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار میں خونریز جھڑپ، کمانڈر سمیت 18 جنگجو مارے گئے

کرم میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار میں خونریز جھڑپ، کمانڈر سمیت 18 جنگجو مارے گئے

واشنگٹن (ش ح ط) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع کرم کی تحصیل سنٹرل کرم میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم جماعت الاحرار کے درمیان خونریز مسلح تصادم میں اہم کمانڈر سمیت 18 جنگجو ہلاک ہوگئے۔

 

کالعدم جماعت الاحرار (عمر خالد خراسانی گروپ) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے 18 ارکان، جن میں کمانڈر ممتاز اُمتی بھی شامل ہیں، کی ہلاکت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود سے وابستہ شدت پسند ملوث ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق جھڑپیں اُس علاقے میں ہوئیں جہاں ٹی ٹی پی کمانڈر کاظم کا اثر و رسوخ بتایا جاتا ہے۔

مصدقہ ذرائع کے مطابق تنازع علاقے میں دوسرے شدت پسند گروپ کی “انٹری” اور اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں پر شروع ہوا، جس کے بعد صورتحال خونریز تصادم میں تبدیل ہو گئی۔

 

پولیس حکام کے مطابق جھڑپ کے دوران دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کمانڈر ممتاز اُمتی بھی شامل ہے، جبکہ شدت پسندوں کی لاشیں مناتو کامران کلے کے علاقے سے برآمد ہوئی ہیں۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق مقامی قبائل نے لاشیں اٹھا کر تدفین کا عمل شروع کر دیا ہے۔

 

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جھڑپ کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کالعدم جماعت الاحرار کے ایک درجن کے قریب جنگجوؤں کو اغوا بھی کر لیا ہے۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ سنٹرل کرم میں سیکیورٹی فورسز ماضی میں متعدد بار شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کر چکی ہیں، جن میں سینکڑوں شدت پسند ہلاک جبکہ ان کے تربیتی مراکز اور متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے تھے۔

 

کالعدم جماعت الاحرار کے بانی عمر خالد خراسانی (اصل نام عبدالولی مہمند) 7 اگست 2022 کو افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے برمل میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔

 

عمر خالد خراسانی مہمند سے تعلق رکھنے والے ان ٹی ٹی پی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے 2014 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدگی اختیار کر کے جماعت الاحرار کے نام سے الگ گروپ تشکیل دیا۔ بعد ازاں اس وقت کے ٹی ٹی پی سربراہ مولوی فضل اللہ نے انہیں اور دیگر کئی رہنماؤں کو تنظیم سے معطل کر دیا تھا، جن میں مہمند سے تعلق رکھنے والے متعدد اہم افراد بھی شامل تھے۔

 

عمر خالد خراسانی اور ان کے گروپ نے ٹی ٹی پی قیادت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ تنظیم کے بنیادی نظریے سے دور ہو رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ جنوری 2024 میں “غازی میڈیا” نے اپنے بیان میں ٹی ٹی پی رہنما نور ولی محسود پر جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کی ہلاکت میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

 

دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نومبر 2014 میں واہگہ بارڈر لاہور حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں 70 سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے۔

 

خراسانی نے اگست 2020 میں اپنے ساتھیوں سمیت تحریک طالبان پاکستان میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

 

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے ان کی واپسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں تنظیم کی تقویت اور ریاست کے خلاف کارروائیوں کو منظم کرنے کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

 

خراسانی اُن چند کمانڈروں میں شامل تھے جن کی ہلاکت یا گرفتاری میں مدد پر امریکی حکومت نے 30 لاکھ ڈالر انعام مقرر کر رکھا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C