16/December/2024

کرم گرینڈ جرگہ ختم نہیں ہوا، فریقین نے مشاورت کیلئے ایک دن کا وقت مانگا ہے، بیرسٹر سیف

👁️ 94 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کرم گرینڈ جرگہ ختم نہیں ہوا، فریقین نے مشاورت کیلئے ایک دن کا وقت مانگا ہے، بیرسٹر سیف

کرم گرینڈ جرگہ ختم نہیں ہوا، فریقین نے مشاورت کیلئے ایک دن کا وقت مانگا ہے، بیرسٹر سیف

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیرِ اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ کرم میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہونے والا گرینڈ جرگہ ختم نہیں ہوا بلکہ فریقین نے مزید مشاورت کے لئے ایک دن کا وقت مانگا تھا۔

ضلع کرم میں امن و امان کے قیام کے لیے گزشتہ نو روز سے جاری گرینڈ جرگہ اب تک کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکا ہے۔

اس گرینڈ جرگہ میں مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ کمشنر کوہاٹ، سکیورٹی فورسز کے نمائندے، اورکزئی، کوہاٹ اور ہنگو سے تعلق رکھنے والے عمائدین کے ساتھ ساتھ ضلع کرم کے رہنما بھی شامل ہیں۔

گذشتہ روز مقامی میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ جرگہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے۔

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ علاقے میں بنائے گئے بنکرز کے خاتمے اور اسلحہ حوالگی کے حوالے سے مشاورت کے لیے فریقین نے گرینڈ جرگہ سے ایک دن کا وقت مانگا تھا جس کے باعث وقفہ کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق اسلحہ جمع کروانا اور بنکرز کا خاتمہ انتہائی ناگزیر ہے۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ضلع کرم جاوید اللہ محسود نے مقامی صحافی کو بتایا ہے کہ بعض جرگہ ممبران کی عدم موجودگی کے باعث جرگہ ملتوی کر دیا گیا تھا جسے آج دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ آمد و رفت کے راستے سکیورٹی خدشات کے باعث بند کیے گئے ہیں۔

پاڑہ چنار سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ اہل تشیع عمائدین مشاورت کے لیے اسلام آباد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمائدین کسی فیصلے پر پہنچنے کے بعد آج واپس کوہاٹ جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جرگے کا بنیادی مقصد امن کا قیام ہے اور اس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ساجد طوری کے مطابق ہمارے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ اپ اپنا اسلحہ حکومت کے حوالے کر دیں۔ ’ہمارے لوگوں کا موقف ہے کہ ریاست ہمیں تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی ہے اور بڑی تعداد میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد علاقے میں موجود ہیں۔‘

’تو ایسے میں اگر ہمارے لوگ غیر مسلح ہو گئے تو پھر یہ ایسا ہی جیسے ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ کر مسلح لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہماری تجویز ہے کہ اگر حکومت امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، راستے کھول دیے جاتے ہیں اور لوگوں کا اعتماد بحال ہو جاتا ہے کہ حکومت واقعی مسلح شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے تو پھر اسلحہ کی واپسی پر بھی بات ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب جرگے کے اہل سنت سے تعلق رکھنے والے نمائندے حاجی سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ بعد دوپہر جرگہ اراکین دوبارہ ملیں گے اور امن کے قیام کے لیے بات چیت ہوگی۔

انھوں نے بتایا کہ جرگے میں اس معاملے پر بات ہوئی ہے کہ تمام گروپس بھاری اسلحہ حکومت کے حوالے کردیں اور پھر راستے کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جرگے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اگر اسلحہ جمع کروانے کے باوجود کسی علاقے میں مخالفین پر حملہ ہوتا ہے تو اس علاقے کے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

حاجی سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ حملے کی صورت میں اہلِ علاقہ سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ’اگر وہ کارروائی کی ذمہ داری تسلیم کریں گے تو انھیں سزا دی جائے گی بصورتِ دیگر انھیں حلف دینا ہوگا کہ یہ کارروائی انھوں نہیں کی، نا وہ اس کے سہولت کار ہیں اور نا ہی انھیں اس کے متعلق علم ہے۔‘

ان کے مطابق اس بارے میں مقامی سطح پر اتفاق نہیں ہو پایا ہے اور آج بعد دوپہر دوبارہ جرگے کا اجلاس ہوگا۔

علاقے میں اشیائے خوردونوش اور ادویات کی کمی

ضلع کرم میں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے آمد و رفت کے راستوں کی بندش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اشیائے خوردونوش، تیل، گیس اور ادویات ختم ہو رہی ہیں۔

پاڑہ چنار میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں ادویات کی کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر شدید زخمی یا پیچیدہ امراض میں مبتلا افراد کو پشاور ریفر کیا جاتا ہے لیکن اس وقت راستے بند ہونے کی وجہ سے وہ مریض کہیں نہیں جا سکتے۔

انھوں نے بتایا کہ آج دو افراد کو ایدھی کی ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے پشاور لے جایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سردی میں اضافے سے بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہاں ان کے پاس علاج کی مکمل سہولیات نہیں ہیں۔

ڈاکٹر میر حسن نے بتایا کہ انھوں نے ضروری ادویات کی ایک فہرست مقامی انتظامیہ کے حوالے کی ہے کیونکہ جو ادویات انھیں فراہم کی گئی تھیں وہ ختم ہو رہی ہیں۔

بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ غذائی قلت دور کرنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ نے محکمہ خوراک کو دو ہزار میٹرک ٹن گندم کرم پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضروری ادویات علاقے میں پہنچائی جا رہی ہیں جبکہ زخمیوں کو بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرم کا مسئلہ 120 سال پرانا ہے اور اس کے مستقل خاتمے میں وقت لگ سکتا ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند دنوں میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا اور علاقے میں مستقل امن قائم ہو جائے گا۔

ضلع کرم میں گزشتہ دو ماہ سے حالات کشیدہ ہیں۔ علاقے میں ہونے والے ان پرتشدد حملوں کی وجہ تنازعہ زمین کا ٹکڑا ہوتا ہے جو بڑھ کر فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ کارروائیاں اور حملے کسی ایک گاؤں یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ پانچ سے چھ ایسے مقامات ہیں جہاں دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں سے حملے ہوتے ہیں۔

اپر کرم سے ملک کے دیگر اضلاع کے لیے راستہ لوئر کرم سے ہو کر گزرتا ہے اور 12 اکتوبر کے بعد سے راستوں کی بندش کی وجہ سے زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے جہاں روز مرہ استعمال کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی۔

اس علاقے میں لوگ مجبور ہیں کہ وہ علاج کے لیے شہر سے باہر نہیں جا سکتے، ان کی پاس تیل، ادویات اور دیگر اشیا ختم ہو رہی ہیں۔

ماضی میں اپر کرم کے لوگ افغانستان کے راستے سے ہو کر واپس پاکستان میں دوسرے علاقے سے داخل ہو کر اپنی منزل کی طرف جاتے تھے مگر اب سرحد پر سختی کے باعث یہ بھی آسان نہیں رہا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C