31/October/2026

دوحہ میں ایرانی وفد کی موجودگی کی تصدیق، امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، عباس عراقچی

👁️ 63 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دوحہ میں ایرانی وفد کی موجودگی کی تصدیق، امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، عباس عراقچی

دوحہ میں ایرانی وفد کی موجودگی کی تصدیق، امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں، عباس عراقچی

تہران / دوحہ(ڈیلی اردو) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وفد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود ہے، تاہم اس کا امریکی حکام سے براہِ راست ملاقات یا مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست ملاقات سے متعلق خبریں فی الحال میڈیا کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجا گیا پیغام ایرانی قیادت کی اعلیٰ سطحی مشاورت میں زیرِ غور آ چکا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کی جانب سے رابطے اور بات چیت کے لیے راستہ کھولنے کی کوشش کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے مؤقف اور شرائط کو تسلیم کیے جانے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ آئندہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے یا ثالثوں کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔

دوسری جانب ثالثی عمل سے واقف ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد میں وزیر خارجہ کے نائب بھی شامل ہیں اور اس کا دورۂ دوحہ بنیادی طور پر قطری ثالثوں کے ساتھ رابطوں کے لیے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ قطر کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ 12 گھنٹے سے زائد مذاکرات کیے، جس کے بعد ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان بھی قطری وفد کے ہمراہ دوحہ پہنچے۔ ان رابطوں کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کو آگے بڑھانا بتایا گیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق قطری ثالث تہران میں مذاکرات کے دوران مسلسل وائٹ ہاؤس سے رابطے میں رہے۔ ادھر بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور امریکی وفد بھی دوحہ پہنچ سکتا ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے ایرانی وفد کے ساتھ براہِ راست ملاقات کی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے فی الحال دوحہ میں دونوں ملکوں کے وفود کی براہِ راست ملاقات کو طے شدہ پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پیغام ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو قطری ثالثوں کے ذریعے پہنچایا گیا تھا۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وینس نے مذاکرات کی بحالی اور ممکنہ معاہدے کے لیے اعلیٰ سطحی ملاقات کی تجویز دی تھی، جبکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مذاکرات کے آغاز ہی سے ایجنڈے میں شامل ہو۔ اس کے برعکس تہران کا مؤقف ہے کہ امریکہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔

قطر کی یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقل معاہدے کے لیے اختلافات برقرار ہیں۔ حالیہ رابطوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی یا کسی حتمی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C