17/September/2026

افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان کا اقوام متحدہ میں سخت مؤقف، 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی ہلاک

👁️ 102 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان کا اقوام متحدہ میں سخت مؤقف، 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی ہلاک

افغانستان سے دہشتگردی کے خطرے پر پاکستان کا اقوام متحدہ میں سخت مؤقف، 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی ہلاک

اسلام آباد(ڈیلی اردو) پاکستان نے افغانستان کی سرزمین سے مبینہ طور پر جاری دہشتگردی کے خطرے پر عالمی برادری کی فوری اور مشترکہ توجہ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پر سرگرم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مؤثر اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے افغانستان کی صورتحال سے متعلق اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں طالبان اور مختلف دہشتگرد تنظیموں کے درمیان موجود مبینہ روابط نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے مجید بریگیڈ، داعش خراسان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) اور ان سے وابستہ گروہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

پاکستانی سفیر کے مطابق افغانستان میں ان گروہوں کی موجودگی اور مبینہ طور پر کارروائیوں کے لیے دستیاب گنجائش نے پہلے سے غیر مستحکم سیکیورٹی ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے مبینہ طور پر ہونے والی دہشتگردی کے نتیجے میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے اس تسلسل نے پاکستان پر بھاری انسانی نقصان مسلط کیا ہے۔

پاکستانی مندوب نے خطے میں دہشتگردی کے حوالے سے بعض بیرونی عناصر کے کردار کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ بعض عناصر افغانستان میں موجود پراکسی گروہوں کی معاونت کے ذریعے پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق ملک کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر پاکستان اس حق کو استعمال کرے گا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں، ان کے مالی وسائل، رسد کے نظام، بھرتی کے ڈھانچے اور سرحد پار معاونت کے ذرائع کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق دہشتگردی کا مقابلہ صرف فوجی کارروائیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے مالی معاونت، لاجسٹک نیٹ ورکس، بھرتی کے نظام اور دیگر سہولت کاری کے ذرائع کو بھی روکنا ضروری ہے۔

اسلام آباد نے افغانستان پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام پورے خطے کے امن سے براہِ راست جڑا ہوا ہے، اس لیے ایک پُرامن، مستحکم، خودمختار اور محفوظ افغانستان پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہے۔

پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ اقوام متحدہ، علاقائی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر دہشتگردی کے خاتمے اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گا، تاہم اپنے شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

اسلام آباد نے ایک بار پھر عالمی برادری کو خبردار کیا کہ افغانستان کی سرزمین کو دہشتگرد گروہوں کے لیے کسی دوسرے ملک یا خطے کے خلاف کارروائیوں کے مرکز میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے مسلسل عالمی توجہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C