17/September/2026

یمن میں 2022 کی جنگ بندی کے بعد شدید ترین کشیدگی، الجوف میں جھڑپیں اور حوثی پیش قدمی

👁️ 72 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یمن میں 2022 کی جنگ بندی کے بعد شدید ترین کشیدگی، الجوف میں جھڑپیں اور حوثی پیش قدمی

یمن میں 2022 کی جنگ بندی کے بعد شدید ترین کشیدگی، الجوف میں جھڑپیں اور حوثی پیش قدمی

صنعاء(ڈیلی اردو) یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان حالیہ دنوں میں لڑائی میں نمایاں شدت آئی ہے۔ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی جانب سے فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ الجوف میں یمنی حکومتی فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں اور حکومتی پیش قدمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ موجودہ صورتحال کو 2022ء کی جنگ بندی کے بعد خطے میں سامنے آنے والی شدید ترین فوجی کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمان کی ثالثی میں مسقط میں امریکی حکام اور حوثی نمائندوں کے درمیان خفیہ رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد موجودہ صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات چیت کرنا تھا۔

حالیہ لڑائی میں الجوف کا محاذ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ عسکری امور کے ماہر مہند العزاوی کے مطابق حکومتی فورسز کو تنظیم، تیاری اور عسکری منصوبہ بندی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے اور کسی بھی فوجی پیش رفت کا مؤثر جواب دینے کے لیے بروقت کارروائی ضروری ہے۔

دوسری جانب صنعاء سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے محقق عبدالغنی الاریانی نے حکومتی فورسز کے درمیان متحدہ قیادت کے فقدان کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مختلف مسلح دھڑوں کے درمیان مشترکہ کمان، مواصلاتی نظام، رسد اور لاجسٹک صلاحیتوں کی کمی حکومتی فورسز کی منظم کارروائیوں کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے حالیہ عرصے میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سمیت بعض اہم مقامات پر اپنی موجودگی بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ تجزیہ کار عبدالغنی الاریانی کے مطابق حوثیوں کے لیے نئے علاقوں میں اپنی گرفت برقرار رکھنا آسان نہیں، خصوصاً وہاں جہاں انہیں مقامی سطح پر وسیع حمایت حاصل نہیں۔

ان کے مطابق حوثی باغیوں کو فضائی دفاع کی محدود صلاحیت اور طویل سپلائی لائنز جیسے مسائل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم مہند العزاوی کے مطابق اگر یمنی حکومتی فورسز اپنی کمان اور کنٹرول کو بہتر بنائیں اور عسکری حکمت عملی کو مربوط کریں تو وہ بعض علاقوں میں دوبارہ پیش قدمی کر سکتی ہیں۔

دوسری طرف واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل سے وابستہ محقق سمیر التقی کے مطابق امریکا یمن کی صورتحال کو ایران اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت سے متعلق وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا زمینی فوج بھیجنے کے بجائے ضرورت پڑنے پر حوثی باغیوں کی عسکری صلاحیتوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

سمیر التقی کے مطابق امریکی پالیسی کا ایک اہم مقصد باب المندب میں بحری آمدورفت کو درپیش خطرات کم کرنا اور حوثی باغیوں پر دباؤ بڑھانا ہے، جبکہ زیر قبضہ علاقوں کی واپسی کی ذمہ داری زیادہ تر یمنی حکومت، سعودی عرب اور مقامی فورسز پر رہ سکتی ہے۔

یمن کی موجودہ صورتحال میں ایک جانب الجوف میں زمینی لڑائی اور حکومتی فورسز کی پیش قدمی کی اطلاعات ہیں، دوسری طرف حوثی باغیوں کے زیر اثر علاقوں اور بحیرہ احمر کے ساحلی خطے سے متعلق فوجی پیش رفت سامنے آ رہی ہے، جبکہ مسقط میں سفارتی رابطوں کی اطلاعات بھی جاری ہیں۔

مجموعی طور پر حالیہ واقعات نے یمن میں 2022ء کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والی نسبتاً کم شدت کی صورتحال کو ایک بار پھر شدید فوجی کشیدگی میں تبدیل کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں صورتحال کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ یمنی حکومتی فورسز اپنی عسکری صلاحیتوں کو کس حد تک مربوط کرتی ہیں اور حوثی باغی حالیہ پیش قدمی کے بعد اپنے زیر اثر علاقوں پر کس حد تک گرفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔


 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C