06/November/2021

افغانستان: مزار شریف میں انسانی حقوق کی کارکن سمیت چار خواتین قتل

👁️ 20 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان: مزار شریف میں انسانی حقوق کی کارکن سمیت چار خواتین قتل

افغانستان: مزار شریف میں انسانی حقوق کی کارکن سمیت چار خواتین قتل

کابل (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی ڈبلیو) افغانستان کے شمالی شہر مزار شریف میں چار خواتین کو ایک ساتھ قتل کر دیا گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والی خواتین میں انسانی حقوق کی ایک کارکن بھی شامل ہے۔

https://twitter.com/BBCSanaSafi/status/1456905724307587075?t=TLdfod86C-I17dR2BcWgVw&s=19

افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت داخلہ کے ترجمان قاری سعید خوستی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی میں ملوث دو مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ایک گھر سے خواتین کی چار لاشیں بھی برآمد کی لی گئی ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا، ”گرفتار شدہ ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں یہ اقرار کیا ہے کہ انہوں نے ہی مقتول خواتین کو اس گھر میں آنے کی دعوت دی تھی۔ اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے اور یہ کیس عدالت میں بھی بھیج دیا گیا ہے۔‘‘

https://twitter.com/aamajnews24/status/1456223695123402753?t=uyoHMd4zP2K2yDbDx18lMw&s=19

قاری سعید خوستی کی جانب سے تو مقتول خواتین کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی لیکن مزار شریف میں موجود مقامی ذرائع نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والی ایک خاتون کا نام فروزن صافی ہے، جو خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تھیں اور ایک یونیورسٹی میں بطور لیکچرر ملازمت کرتی تھیں۔

اسی طرح تین دیگر مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ متاثرہ خواتین کو ایک کال وصول ہوئی تھی اور انہیں یہ دعوت نامہ موصول ہوا تھا کہ وہ ایک جہاز کے ذریعے افغانستان سے نکل سکتی ہیں۔ مقتول خواتین کو ایک خصوصی کار کے ذریعے لے جایا گیا تھا لیکن بعدازاں ان کی لاشیں ملیں۔

ایک بین الاقوامی تنظیم کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ”میں ان میں سے ایک خاتون فروزن صافی کو جانتی ہوں، جو شہر میں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کے حوالے سے جانی پہچانی جاتی ہیں۔‘‘

فروزن صافی کو تین ہفتے قبل ایک کال موصول ہوئی تھی کہ محفوظ طریقے سے ملک سے باہر جانے میں ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔ یہ معلومات فراہم کرنے والی خاتون کا مزید کہنا تھا، ”مجھے بھی ایک ایسی ہی کال آئی تھی۔ اس شخص کے پاس میری تمام تر معلومات تھیں اور اس نے یوں ظاہر کیا جیسے میرے ہی آفس کا وہ بڑا افسر تھا اور وہ ہماری معلومات ان امریکی حکام کو فراہم کرنا چاہتا تھا، جو افغانوں کو نکالنے کے ذمہ دار ہیں۔ اس نے کہا کہ میں اُسے تمام ضروری کاغذات بھیجوں اور ایک سوالنامہ پُر کروں۔‘‘

شک کے بعد اس خاتون نے وہ نمبر بلاک کر دیا اور اب یہ بھی خوفزدہ ہیں۔ اس خاتون کا مزید کہنا تھا، ”میں بھی اب شدید خوفزدہ ہوں، کسی وقت کوئی بھی کوئی میرے گھر آ سکتا ہے، مجھے پکڑ کر کہیں لے جایا جا سکتا ہے اور قتل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ طالبان کے آخری دور حکومت میں خواتین کی عوامی زندگی پر پابندی عائد تھی اور گروپ کی حکومت میں دوبارہ واپسی کے بعد متعدد انسانی حقوق کے رہنما ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

جو خواتین رہنما ملک میں رہ گئی ہیں انہوں نے کابل کی سڑکوں پر احتجاج کیا تھا جس میں انہوں نے ان کے حقوق کا احترام اور لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکول جانے کی اجازت دینے کے مطالبات کیے تھے۔

طالبان جنگجوؤں نے چند احتجاج کو طاقت کے ذریعے ختم کردیا تھا جبکہ حکومت نے غیر مجازی اجتماعات کی کوریج پر صحافیوں کو گرفتاری کی دھمکی دی تھی۔

تاہم گروپ کے رہنماؤں نے اصرار کیا تھا کہ ان کے جنگجوؤں کو سماجی رہنماؤں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وعدہ کیا تھا کہ ایسا کرنے والے کو سزا دی جائے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C