26/June/2026

ایران: آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، انخلا آپریشن معطل

👁️ 12 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران: آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، انخلا آپریشن معطل

ایران: آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، انخلا آپریشن معطل

لندن (ڈیلی اردو) برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک کارگو جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

 

یو کے ایم ٹی او کے مطابق عمان کے شمال میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک کارگو جہاز کے دائیں حصے (اسٹار بورڈ) کو نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا۔ جہاز کے کپتان نے بتایا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔

 

برطانوی میری ٹائم حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں موجود تمام جہازوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔

 

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے سربراہ ارسینیو ڈومنگیز نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود 11 ہزار سے زائد ملاحوں کے انخلا کے لیے جاری آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگرچہ متعدد جہازوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہے، تاہم ادارہ اس وقت تک انخلا کا عمل دوبارہ شروع نہیں کرے گا جب تک ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل نہیں ہو جاتیں۔

 

سمندری سکیورٹی کمپنی وین گارڈ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والا سنگاپور کے پرچم بردار کارگو جہاز ایور لاولی (Ever Lovely) تھا، جو حملے کے باوجود بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب رہا اور اسے کسی امداد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

 

میرین ٹریفک ویب سائٹ کے مطابق جہاز جمعرات کی صبح جنوبی راستے سے آبنائے میں داخل ہوا اور بعد ازاں مشرقی سمت سے اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔

آئی ایم او کے سربراہ نے واضح کیا کہ متاثرہ جہاز اقوامِ متحدہ کے انخلا فریم ورک کے تحت سفر نہیں کر رہا تھا۔

 

یاد رہے کہ فروری سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے باعث خلیجی پانیوں میں سینکڑوں تجارتی جہاز اور ہزاروں ملاح متاثر ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی گئی تھی اور اقوامِ متحدہ نے ملاحوں اور جہازوں کے محفوظ انخلا کے لیے خصوصی آپریشن شروع کیا تھا۔

 

ادھر ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول نہیں بلکہ "بحری خدمات کی فیس" وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس مؤقف کی مخالفت کر رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C