20/August/2026

امریکہ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سربراہ اور اعلیٰ عہدیدار پر نئی پابندیاں

👁️ 107 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سربراہ اور اعلیٰ عہدیدار پر نئی پابندیاں

امریکہ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سربراہ اور اعلیٰ عہدیدار پر نئی پابندیاں

واشنگٹن (ڈیلی اردو) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی سربراہ اور عدالت کے ایک سینئر ٹرائل وکیل کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ اقدام ہیگ میں قائم عدالت کے خلاف واشنگٹن کی جاری مہم میں ایک اور اہم پیش رفت ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کو اعلان کیا کہ واشنگٹن نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جاپانی صدر جج توموکو آکانے اور سینیگال سے تعلق رکھنے والے عدالت کے سینئر ٹرائل وکیل عبدالحئی سیے کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں عہدیدار ایسے افراد کے خلاف عدالت کی کارروائیوں میں براہِ راست شامل رہے ہیں جن کی حکومتوں نے آئی سی سی کے دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔

نئی پابندیوں کے تحت آکانے اور سیے کے امریکہ میں موجود اثاثے منجمد کیے جائیں گے، جبکہ امریکی مالیاتی نظام تک ان کی رسائی بھی محدود ہو گی۔ اس اقدام کا مقصد ان دونوں عہدیداروں کو امریکی مالیاتی نظام اور امریکی دائرۂ اختیار میں آنے والے اثاثوں سے متعلق لین دین سے روکنا ہے۔

امریکہ کا آئی سی سی پر سخت مؤقف

امریکی انتظامیہ طویل عرصے سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرۂ اختیار اور اس کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی شہریوں کے خلاف تحقیقات پر اعتراض کرتی رہی ہے۔ امریکہ روم معاہدے کا فریق نہیں ہے اور واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی کو ایسے ممالک کے شہریوں کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل نہیں جنہوں نے عدالت کے دائرۂ اختیار کو قبول نہیں کیا۔

امریکی محکمہ انصاف نے بھی جولائی میں واضح کیا تھا کہ امریکہ آئی سی سی کے امریکی شہریوں سے متعلق کسی بھی دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا اور واشنگٹن عدالت کی تحقیقات یا کارروائیوں میں تعاون نہیں کرے گا۔

روبیو نے اپنے بیان میں آئی سی سی کو ایک ’’کرپٹ اور انتہائی سیاسی‘‘ بین الاقوامی عدالت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق واشنگٹن اپنی ریاستی خودمختاری پر عدالت کے مبینہ حملے کو قبول نہیں کرے گا۔

غزہ اور اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائیاں

ٹرمپ انتظامیہ اور آئی سی سی کے درمیان کشیدگی بالخصوص غزہ میں جنگ سے متعلق عدالت کی کارروائیوں کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ آئی سی سی نے اسرائیلی حکام کے خلاف مبینہ جنگی جرائم سے متعلق کارروائی کی ہے، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ بھی شامل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں آئی سی سی کے رکن نہیں ہیں اور عدالت کے دائرۂ اختیار کو مسترد کرتے ہیں۔

اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان سمیت عدالت کے متعدد عہدیداروں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا۔ نئی پابندیوں کے بعد عدالت کے خلاف امریکی اقدامات مزید وسیع ہو گئے ہیں۔

آئی سی سی کا سخت ردعمل

ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکی اقدام کو عدالت کی آزادی اور بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

آئی سی سی نے کہا کہ عدالت اپنے عملے کے ساتھ کھڑی ہے اور اس کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات ’’قانون کی حکمرانی‘‘ کو کمزور کرتے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جب قانونی نظام کے دائرہ کار میں فرائض انجام دینے والے افراد کو قانون نافذ کرنے کی کوششوں کے باعث دھمکایا جائے تو اس سے پورے بین الاقوامی قانونی نظام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی امریکی پابندیوں پر ’’شدید تشویش‘‘ کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق اگرچہ آئی سی سی اور اقوام متحدہ الگ ادارے ہیں اور ان کے مینڈیٹ مختلف ہیں، تاہم عالمی ادارہ بین الاقوامی فوجداری انصاف کے نظام میں آئی سی سی کے کردار کو اہم سمجھتا ہے۔

جاپان اور یورپی ممالک کا ردعمل

امریکی اتحادی جاپان نے بھی اپنی شہری اور آئی سی سی کی سربراہ توموکو آکانے کے خلاف امریکی پابندیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت نے اس اقدام کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے عدالت کے کردار کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

نیدرلینڈز، جہاں آئی سی سی کا صدر دفتر واقع ہے، اور بعض یورپی ممالک نے بھی عدالت کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ امریکی پابندیوں نے واشنگٹن اور اس کے بعض اتحادیوں کے درمیان آئی سی سی کے کردار اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تازہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن عدالت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب آئی سی سی کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی دباؤ کے باوجود اپنے قانونی مینڈیٹ کے مطابق کام جاری رکھے گی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C