امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ، پاکستان اور بھارت کی صورتِ حال پر تشویش
👁️ 110 بار دیکھا گیا
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ، پاکستان اور بھارت کی صورتِ حال پر تشویش
واشنگٹن (ڈیلی اردو/وی او اے) امریکہ کے کمیشن برائے مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے پاکستان، چین، سعودی عرب اور ایران سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کے حوالے سے خدشات پائے جانے والے ملکوں کی فہرست (سی پی سی) میں برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے۔
USCIRF today released its 2023 Annual Report documenting developments during 2022, including significant regression in countries such as Afghanistan, China, Cuba, Iran, Nicaragua, and Russia. https://t.co/Da7YnwZlHg
— USCIRF (@USCIRF) May 1, 2023
کمیشن نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے 2022 میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ارکان کے خلاف توہینِ مذہب کے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی 2022 کے واقعات پر مبنی رپورٹ میں جن 12 ملکوں کو سی پی سی کی فہرست میں شامل رکھنے کی سفارش کی گئی ہے ان میں روس، تاجکستان، ترکمانستان، شمالی کوریا، کیوبا، برما اور اریٹریا بھی شامل ہیں۔
سی پی سی ایسے ملکوں کو کہتے ہیں جن کے بارے میں مذہبی آزادی کے حوالے سے خصوصی خدشات پائے جاتے ہیں۔رپورٹ میں سی پی سی ان ممالک کو کہا گیا ہے جہاں حکومت مذہبی آزادیوں کی “مخصوص اور انتہائی درجے کی” خلاف ورزیوں میں ملوث ہو یا انہیں برداشت کرے۔
ان 12 ملکوں کے علاوہ پانچ مزید ملکوں کو سی پی سی میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جن میں بھارت، افغانستان، نائیجیریا، شام اور ویتنام شامل ہیں۔
’بھارتی حکومت نے مذہبی امتیاز کو بڑھاوا دیا’
رپورٹ میں بھارت سے متعلق کہا گیا ہے کہ 2022 میں بھارتی حکومت نے ہر سطح پر مذہبی امتیاز پر مبنی پالیسیوں کو بڑھاوا دیا اور انہیں نافذ کیا جس نے مسلمانوں، مسیحیوں، سکھ اور دلت برادری پر منفی اثرات ڈالے۔
’’بھارتی حکومت نے تنقیدی آوازیں دبانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور اس کے لیے ہراسانی، نگرانی اور املاک ڈھانے کا حربہ استعمال کیا گیا۔‘‘
خیال رہے کہ یو ایس سی آئی آر ایف نے گزشتہ برس بھی بھارت کو اس فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی تاہم بائیڈن انتظامیہ نے اسے مذہبی آزادی کے حوالے سے خدشات والے ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔
پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ میں یو ایس سی آئی آر ایف نے الجیریا اور افریقی ملک سینٹرل افریقن ری پبلک کو اسپیشل واچ لسٹ (ایس ڈبلیو ایل) میں برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے جب کہ اس فہرست میں مزید نو ملکوں کو شامل کرنے کی سفارش ہے۔
ان نو ملکوں میں ترکی، مصر، عراق، انڈونیشیا، ملائیشیا، سری لنکا، قزاقستان، ازبکستان اور آذر بائیجان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ یو ایس سی آئی آر ایف نے عالمی شدت پسند تنظیم داعش سمیت بوکو حرام، الشباب، حوثی، حیات تحریر الشام اور اسلامک اسٹیٹ ان گریٹر صحارا کو بھی خصوصی تشویش والی تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔
پاکستان سے متعلق خصوصی تشویش
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے اپنی رپورٹ میں 2022 کے دوران پاکستان میں پیش آنے والے اہم واقعات کا حوالہ دیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کی صورتِ حال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ مذہبی اقلیتوں پر حملوں یا انہیں دھمکیاں ملنے کے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کو توہینِ مذہب کے الزامات سمیت ٹارگٹ کلنگ، ہجوم کے تشدد، ماورائے آئین قتل، جبری تبدیلیٔ مذہب، عبادت گاہوں کی توہین سمیت خواتین اور لڑکیوں کو جنسی ہراسانی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان میں توہینِ مذہب کے مقدمات مذہبی آزادی کے لیے بدستور خطرہ ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ارکان کے خلاف توہینِ مذہب کے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شیعہ، احمدیوں، مسیحی، ہندو اور سکھ برادریوں کو سخت اور امتیازی قانون سازی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان میں پیش آنے والے کچھ واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس فروری میں ایک عدالت نے سندھ کے ضلع گھوٹکی کے ایک نجی اسکول پرنسپل نوتن لال کو توہینِ مذہب کے الزامات پر آرٹیکل 295 سی کے تحت عمر قید کی سزا سنائی۔
مذکورہ پرنسپل پر ایک طالب علم نے تین برس قبل توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا تھا تاہم سزا کے خلاف نوتن لال کی اپیل اب تک زیرِ التوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری میں ہی پنجاب میں ایک ہجوم نے پتھر مار مار کر محمد مشتاق نامی شخص کو قتل کر دیا جس کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ مشتاق پر قرآن نذرِ آتش کرنے کا الزام تھا۔ لگ بھگ 300 افراد پر مشتمل ہجوم نے اس الزام میں مشتاق کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش درخت سے لٹکا دی تھی۔
کمیشن برائے مذہبی آزادی نے امریکی حکومت کو چند تجاویز بھی پیش کی ہیں جن میں چار ملکوں سے متعلق امریکی پالیسی پر نظر ثانی کرنا بھی شامل ہے۔ ان ملکوں میں پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں۔
کمیشن نے سفارش کی ہے کہ مذکورہ ملکوں سے متعلق معنی خیز نتائج اور انہیں مثبت تبدیلیوں کے لیے آمادہ کرنے کے لیے پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بنوں میں دہشتگردوں کی فائرنگ، دو بھائی ہلاک
06/September/2026 👁️ 6 بار دیکھا گیا
چھتیس گڑھ کے کونڈا گاوں میں نکسلی ڈمپ سے 30 کلو دھماکہ خیز مواد اور پستول برآمد
06/September/2026 👁️ 45 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان : ڈرون حملے سے سکیورٹی اہلکار ہلاک، درابن میں پولیس پر 3 حملے ناکام
06/September/2026 👁️ 46 بار دیکھا گیا
خیبرپختونخوا کے حساس اضلاع میں پولیس کو ڈرونز، بکتر بند گاڑیاں اور بھاری ہتھیار دینے پر غور
06/September/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
ڈی آئی خان : درابن تھانے پر حملے کی کوشش ناکام، مسلح حملہ آور فرار
06/September/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
چاغی : نجی کانوں سے اغوا کیے گئے تمام 7 افراد بحفاظت بازیاب
06/September/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26275 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15524 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11808 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9102 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7392 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5086 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C