09/July/2026

ایران پر امریکی حملوں کی نئی لہر، دوسرے روز بھی چابہار اور دیگر مقامات پر بمباری

👁️ 112 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران پر امریکی حملوں کی نئی لہر، دوسرے روز بھی چابہار اور دیگر مقامات پر بمباری

ایران پر امریکی حملوں کی نئی لہر، دوسرے روز بھی چابہار اور دیگر مقامات پر بمباری

واشنگٹن/تہران (ڈیلی اردو) امریکا نے دوسرے روز بھی ایران کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کے خلاف مزید حملے کیے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

 

سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کے خلاف ایران کے حالیہ حملوں کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

 

امریکی کمانڈ کے مطابق امریکا بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں اور شہری عملے کے خلاف مبینہ جارحیت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہا ہے۔

 

ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایران پر جاری حالیہ امریکی حملے منگل کو کیے گئے حملوں کے مقابلے میں زیادہ بڑے پیمانے پر ہیں۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ نئی کارروائی کا دائرہ کار پہلے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

 

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ساحلی شہر چابہار میں واقع امام علی نادسا فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

 

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق چابہار اور کونارک میں تقریباً 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بندر عباس، سرک، کونارک، چابہار، ایرانشہر اور بوشہر کے علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

 

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ بوشہر کے قریب ہونے والے حملوں میں جوہری پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

 

رپورٹس کے مطابق چابہار میں ہونے والے حملوں کے بعد داغے گئے پروجیکٹائلز کے ٹکڑے امام علی اسپتال کے قریب گرے، جس سے نقصان کی اطلاعات ہیں۔

 

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر کے ہوائی اڈے کی عمارت اور رن وے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں دھماکوں کے بعد دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

 

ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی صوبہ بوشہر میں پاسداران انقلاب کے ایک اہم فوجی اڈے پر حملے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جس میں متعدد افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق خلیج میں واقع متنازع ابو موسیٰ جزیرے پر بھی میزائل یا گولے داغے گئے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بندر عباس کے مشرقی علاقے میں آٹھ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

 

رپورٹس کے مطابق ابو موسیٰ جزیرے اور جزیرہ سیریک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس سے قبل منگل کو کیے گئے حملوں میں ایران کے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہاز شکن میزائل صلاحیتیں اور پاسداران انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیاں شامل تھیں۔

 

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں ایرانی فوج کے ایک کمانڈر سمیت آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

 

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف بڑے حملے شروع کر سکتی ہیں۔

 

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا نے ایران پر حملہ کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید سخت کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C