08/July/2026

ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی ڈیل ختم ہو چکی، امریکی صدر ٹرمپ

👁️ 158 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی ڈیل ختم ہو چکی، امریکی صدر ٹرمپ

ایران کے ساتھ عبوری جنگ بندی ڈیل ختم ہو چکی، امریکی صدر ٹرمپ

انقرہ (ڈیلی اردو،روئٹرز، اے پی، اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے دستخط کی جانے والی مفاہمتی یادداشت اب ’’ختم ہو چکی ہے‘‘ اور وہ تہران کے ساتھ مزید معاملات نہیں کرنا چاہتے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے خاتمے کے لیے دستخط کی جانے والی مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) اب ’’ختم ہو چکی ہے‘‘ اور وہ تہران کے ساتھ مزید معاملات نہیں کرنا چاہتے۔

 

واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والا عبوری جنگ بندی معاہدہ  60 روزہ مدت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں، تاہم قطر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات گزشتہ ہفتے کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔ اس کے بعد منگل کو امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی۔

 

ترکی  کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ٹرمپ نے کہا، ’’میرے خیال میں یہ اب ختم ہو چکا ہے۔ میں ان سے مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

 

انہوں نے نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا، ’’وہ گھٹیا لوگ ہیں، بیمار ذہنیت کے حامل  ہیں، ان کی قیادت بھی ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے، اور وہ نہایت سفاک اور پرتشدد ہیں۔ اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار ہوا تو وہ اسے استعمال کریں گے۔‘‘ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’جہاں تک میرا تعلق ہے ، یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔‘‘

 

ٹرمپ نے کہا کہ وہ کاروباری شخصیت سے مذاکرات کار بننے والے اسٹیو وٹکوف اور اپنے داماد جیرڈ کشنر سے بات کریں گے، جو  ایرانی حکام کے ساتھ معاملات میں شامل رہے ہیں، تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ مذاکرات کی میز پر واپس آنا تہران کی ذمہ داری ہے۔

 

انہوں نے کہا، ’’جہاں تک میرا تعلق ہے، ان سے معاملہ کرنا محض وقت کا ضیاع ہے۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘

ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہاس نے 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے حوالے  سے ہونے والے اتفاقِ رائے کو بار بار غلط انداز میں پیش کیا۔

 

ٹرمپ  نے کہا، ’’سب اس بات پر متفق تھے کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ہم ایک معاہدہ کرتے ہیں، پھر وہ باہر جا کر میڈیا کے سامنے مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں کی۔ ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے، وہ غیر سنجیدہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔‘‘

 

منگل کے روز امریکہ نے وہ لائسنس بھی منسوخ کر دیا جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں پر گولہ باری کے بعد کیا گیا۔

 

عبوری امریکی۔ایرانی معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ نے 22 جون کو ایک عمومی لائسنس جاری کیا تھا، جس کے ذریعے 21 اگست تک ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم منگل کو اس لائسنس کی منسوخی کے بعد ایران کو ہدایت دی گئی کہ وہ 17 جولائی تک اس کے تحت ہونے والے تمام لین دین سمیٹ لے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C