29/October/2026

ایران کا سات روزہ منصوبہ نافذ کرانے کے لیے ثالثوں سے رابطہ جاری ہے، عباس عراقچی؛ قطر کی نئی تجاویز پر بھی اختلافات برقرار

👁️ 57 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کا سات روزہ منصوبہ نافذ کرانے کے لیے ثالثوں سے رابطہ جاری ہے، عباس عراقچی؛ قطر کی نئی تجاویز پر بھی اختلافات برقرار

ایران کا سات روزہ منصوبہ نافذ کرانے کے لیے ثالثوں سے رابطہ جاری ہے، عباس عراقچی؛ قطر کی نئی تجاویز پر بھی اختلافات برقرار


ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے مجوزہ سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کے حوالے سے ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران سفارت کاری کو کامیاب بنانے کا موقع دے رہا ہے اور اگر منصوبے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگئی تو مطلوبہ پیش رفت ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں ممکن ہے۔

عراقچی کے مطابق ایران کی تجویز میں بعض شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور وہاں سے تجارتی جہازوں کی معمول کی آمدورفت بحال کرنا شامل ہے۔ تہران اس منصوبے کے تحت جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے اقدامات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل ایران کی ابتدائی تجویز مسترد کر چکے ہیں، جس کے بعد قطر نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھیں۔ 28 اکتوبر کو رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ قطری ثالثوں نے تہران کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی مسودہ تجویز بھی پیش کی، جس میں اعتماد سازی کے لیے سات روزہ اقدامات شامل ہیں۔ تاہم مذاکرات سے آگاہ ایک ایرانی عہدیدار نے نئی تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ ایران اپنی جوہری پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مذاکرات میں بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ اقدامات کا آغاز کس ترتیب سے کیا جائے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات ابتدا ہی میں زیر بحث آئیں، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ پہلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے اور ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں کے معاملے میں پیش رفت ہو۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری مذاکرات سمیت دیگر امور پر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ اس کے ذریعے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اس لیے اس راستے کی بندش یا محدود آمدورفت نے توانائی کی فراہمی اور جہاز رانی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

عراقچی کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان شرائط اور ان پر عمل درآمد کی ترتیب کے حوالے سے اختلافات بدستور موجود ہیں۔ 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C