22/August/2026

ایران کو اندرونی کمزوریوں کا سامنا، معاشی دباؤ اور علیحدگی پسند رجحانات پر ماہرین کی تشویش

👁️ 100 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کو اندرونی کمزوریوں کا سامنا، معاشی دباؤ اور علیحدگی پسند رجحانات پر ماہرین کی تشویش

ایران کو اندرونی کمزوریوں کا سامنا، معاشی دباؤ اور علیحدگی پسند رجحانات پر ماہرین کی تشویش

تہران (ڈیلی اردو) ایران کی بیرونی سرگرمیوں، معاشی مشکلات اور اندرونی سماجی و سیاسی اختلافات کے حوالے سے ایک تجزیے میں ملک کو درپیش ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے پالیسی مرکز سے وابستہ محقق محمد الزغول کے مطابق بیرونِ ملک اثر و رسوخ بڑھانے کے ساتھ اندرونی بنیادوں کو مضبوط نہ کرنا مستقبل میں ایران کے لیے سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

 

بیرونی اثر و رسوخ اور اندرونی مسائل

محمد الزغول کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی داخلی معاشی، سیاسی اور سماجی طاقت مکمل طور پر مستحکم ہونے سے پہلے بیرونِ ملک اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی پالیسی اختیار کی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال خطے میں ایران کی طاقت کے بجائے اندرونی کمزوریوں کی علامت بھی بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی ملک کا پائیدار اثر صرف عسکری یا سیکیورٹی ذرائع سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، ثقافت، تعلیم، تجارت اور دیگر شعبوں میں کشش پیدا کرنے سے قائم رہتا ہے۔

 

معاشی دباؤ میں اضافہ

تجزیہ کار کے مطابق طویل عرصے سے جاری پابندیوں اور بیرونی محاذوں پر اخراجات نے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ان کے بقول اگر معاشی وسائل مسلسل استعمال ہوتے رہیں اور ترقی کی رفتار کم ہو تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ معاشی مشکلات کے باعث ایران میں سرمایہ کاروں، سیاحوں اور کاروباری افراد کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچا ہے، جس سے داخلی اقتصادی مسائل مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

 

تین علاقوں میں علیحدگی کے رجحانات کا ذکر

محمد الزغول نے ایران کے اندر کرد، بلوچ اور عرب آبادیوں میں پائے جانے والے علیحدگی پسند رجحانات کو بھی ممکنہ خطرات میں شمار کیا۔ ان کے مطابق کرد اور بلوچ علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، جبکہ خوزستان میں عرب شناخت سے وابستہ رجحانات بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران میں کسی بڑے داخلی بحران کی صورت میں اس کے اثرات صرف ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پڑوسی ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ کرد، بلوچ اور عرب آبادیوں کے روابط سرحدوں سے باہر کے علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

 

خانہ جنگی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خدشہ

تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ اگر داخلی اختلافات، معاشی مشکلات اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو صورتحال خانہ جنگی یا بڑے پیمانے پر نقل مکانی جیسے سنگین بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی تقسیم کی حمایت مقصود نہیں بلکہ موجودہ صورتحال کے ممکنہ نتائج سے حکام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔

 

ریاست اور معاشرے کے درمیان فاصلے کا معاملہ

الزغول کے مطابق ایران میں ریاستی اداروں اور معاشرے کے بعض طبقات کے درمیان فاصلے میں اضافے کا معاملہ بھی اہم ہے۔ ان کے بقول سخت سیکیورٹی پالیسیوں اور سیاسی اختلافات نے اس خلیج کو مزید نمایاں کیا ہے۔

 

تجزیہ کار نے زور دیا کہ ایران جیسے بڑے اور پیچیدہ ملک کے مسائل کا حل فوری فوجی کارروائی یا عجلت میں کیے گئے سیاسی فیصلوں کے بجائے طویل مدتی حکمت عملی، احتیاط اور تدبر کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C