02/November/2026

ایران کی امریکہ کو معاہدے کی صورت میں آبنائے دو دن میں بحال کرنے کی پیشکش

👁️ 47 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کی امریکہ کو معاہدے کی صورت میں آبنائے دو دن میں بحال کرنے کی پیشکش

ایران کی امریکہ کو معاہدے کی صورت میں آبنائے دو دن میں بحال کرنے کی پیشکش

تہران(ڈیلی اردو) ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت دو روز کے اندر بحال کرنے کی پیشکش کی ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم کیے بغیر اور ایرانی مطالبات تسلیم کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی بنیاد ایران کا سات نکاتی منصوبہ ہے، جسے اب مختصر کرکے اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں اس پر دو دن کے اندر عمل درآمد ممکن ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ایران نے اپنے مطالبات ثالثوں کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچا دیے ہیں اور قطر کے توسط سے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اور ایران کے مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا اس کی سلامتی بحال کرنے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔

ایرانی ترجمان نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو بھیجے گئے خط کے بارے میں کہا کہ اس میں کوئی نئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق خط کا جواب دینے اور اس کے طریقہ کار کا فیصلہ محسن رضائی ہی کریں گے۔

دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے اس خط میں مذاکرات کی بحالی اور ادویات سمیت بعض ضروری اشیا کی ایران درآمد میں سہولت فراہم کرنے سے متعلق تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم تہران نے اس خط کو کسی نئی سفارتی پیش رفت کے بجائے پہلے سے جاری رابطوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران اور قطر کے درمیان مذاکراتی رابطوں کا حالیہ دور کسی حتمی پیش رفت کے بغیر ختم ہوا، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری ہیں۔ مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار کے مطابق ایرانی مذاکرات کار اتوار کو دوحہ سے روانہ ہوگئے تھے اور امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا ایک مسودہ بھی زیرِ گردش ہے، جبکہ آئندہ ملاقات کا امکان موجود ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سات نکاتی منصوبے میں امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، ایرانی تیل کی تجارت پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش بھی انہی شرائط سے مشروط ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایران اور عمان کے درمیان طے شدہ راستہ اور نگرانی کا نظام بھی منصوبے کا حصہ ہوسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پیر کو سفارتی حل کی امید پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً چار فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔

تاہم ایران کی پیشکش کے باوجود ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا امریکی جانب سے ایرانی شرائط قبول کیے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمد و رفت کی بحالی کا انحصار آئندہ مذاکرات اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ اتفاق رائے پر ہوگا۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C