22/October/2026

ایران کے معاملے پر جلد اہم پیش رفت ہوگی، ٹرمپ کا عندیہ، حملوں کے نئے منصوبوں کی اطلاعات

👁️ 64 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران کے معاملے پر جلد اہم پیش رفت ہوگی، ٹرمپ کا عندیہ، حملوں کے نئے منصوبوں کی اطلاعات

ایران کے معاملے پر جلد اہم پیش رفت ہوگی، ٹرمپ کا عندیہ، حملوں کے نئے منصوبوں کی اطلاعات

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر جلد اہم پیش رفت ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا امکان بظاہر کم ہے، تاہم صورتِ حال میں جلد کوئی تبدیلی آسکتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کیے ہیں۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ سے ایران کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کے امکانات کے بارے میں سوال کیا گیا۔ اس پر امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں مذاکرات نہیں ہوں گے، لیکن جلد کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت انتخابات کے بعد ہوگی، تاہم اس بارے میں دیکھنا ہوگا۔ ان کا اشارہ امریکا میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کی جانب تھا۔ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی مراد کسی فوجی کارروائی، سفارتی پیش رفت یا کسی دوسرے اقدام سے ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی حکام ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے منصوبوں پر غور کررہے ہیں۔ رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی میں ایران کی جوہری تنصیبات، توانائی کے مراکز اور میزائل و ڈرون پروگرام سے متعلق اہداف کو نشانہ بنانے کے منصوبے زیر غور ہوسکتے ہیں۔ تاہم، منصوبہ بندی کی اطلاعات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکی صدر نے حملے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی عسکری سرگرمیوں کو اہم سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہیں، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ جواب دے گا۔ اس صورتِ حال میں کسی نئی فوجی کارروائی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات میں جوہری پروگرام، پابندیوں، بحری آمدورفت اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال اہم معاملات ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے علاقائی ممالک کی کوششیں بھی اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کے تازہ بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند ہوچکا ہے یا پسِ پردہ کسی نئی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے۔ اسی طرح، ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت، اہداف اور حتمی فیصلے کے بارے میں بھی کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

ٹرمپ کے بیان اور ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کی اطلاعات نے خطے کی صورتِ حال کے بارے میں غیر یقینی کیفیت بڑھا دی ہے۔ اگر فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف امریکا، اسرائیل اور ایران تک محدود رہنے کے بجائے پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی بحری تجارت اور توانائی کی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C