22/October/2026

آبنائے ہرمز کے قریب ایک ہی دن میں 7 تیل بردار جہاز متاثر، ایران کا بحری حملوں اور سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز کے قریب ایک ہی دن میں 7 تیل بردار جہاز متاثر، ایران کا بحری حملوں اور سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ

آبنائے ہرمز کے قریب ایک ہی دن میں 7 تیل بردار جہاز متاثر، ایران کا بحری حملوں اور سرنگوں سے ٹکرانے کا دعویٰ

تہران (ڈیلی اردو) آبنائے ہرمز کے قریب ایک ہی دن میں سات تیل بردار بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ان میں سے چار جہاز مبینہ حملوں کے نتیجے میں آگ لگنے سے متاثر ہوئے، جبکہ مزید تین بحری سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہوگئے۔ تاہم، ان واقعات کی آزادانہ تصدیق، متاثرہ جہازوں کی مکمل شناخت اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی نشریاتی ادارے نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے حوالے سے بتایا کہ حملوں سے متاثر ہونے والے چار جہاز تیل کی منتقلی کے عمل میں مصروف تھے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ دیگر تین جہاز بحری سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث متاثر ہوئے اور ان کی نقل و حرکت رک گئی۔ حکام نے تمام متاثرہ جہازوں کے نام، ان کے ملکیتی یا قومی پرچم اور نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں اپنے شناختی اور رہنمائی کے نظام بند کرکے سفر کرنے والے جہازوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک تیل بردار جہاز مبینہ طور پر بحری سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاز آبنائے سے نکلنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس کے انجن روم میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

ایران نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ جہاز نے اپنی پوزیشن اور راستے کی نشاندہی کرنے والے نظام بند کررکھے تھے اور ایسے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کی جسے تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ تاہم، جہاز کی شناخت، واقعے کی مکمل نوعیت اور ایرانی دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ایرانی حکام اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات کی اطلاعات دے چکے ہیں۔ ایک سابقہ ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک بڑے تیل بردار جہاز کو بحری سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی، جبکہ اس میں 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل موجود تھا۔ ایرانی حکام نے الزام لگایا تھا کہ جہاز مبینہ طور پر غیر مجاز جنوبی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی ایک اہم عالمی آبی گزرگاہ ہے۔ معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی کھپت کے مساوی مقدار اس راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث یہاں جہاز رانی میں خلل عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتا ہے۔

28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی اور بحری آمدورفت سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے قریب تازہ واقعات کے حوالے سے ایرانی دعووں کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی اصل نوعیت اور مجموعی صورت حال کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C