31/October/2026

بعض طاقتور قوتیں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری رکھنا چاہتی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوششوں میں مثبت پیش رفت کے اشارے

👁️ 69 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بعض طاقتور قوتیں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری رکھنا چاہتی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوششوں میں مثبت پیش رفت کے اشارے

بعض طاقتور قوتیں ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری رکھنا چاہتی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوششوں میں مثبت پیش رفت کے اشارے

راولپنڈی (ڈیلی اردو) پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کے حوالے سے پُرامید ضرور ہے، تاہم صورتحال پر محتاط نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض طاقت ور عناصر ایسے بھی ہیں جو اس تنازع کو جاری رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا رواں ماہ دو مرتبہ ایران کا دورہ کرنا اس بات کا مثبت اشارہ ہے کہ سفارتی سطح پر پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوتی تو آرمی چیف بار بار تہران کیوں جاتے؟ تاہم انہوں نے ان عناصر کی نشاندہی نہیں کی جو جنگ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق پاکستان کی پالیسی کو محتاط امید قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور اس بات کی بھی تصدیق نہیں کی کہ آیا امریکہ نے حالیہ سفارتی رابطوں کی حمایت کی ہے یا نہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ سفارتی کوششیں

ترجمان پاک فوج کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اکتوبر کے دوران تہران کے دو دورے کیے۔ ان کا تازہ ترین دورہ 26 اکتوبر کو ہوا، جس میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن بھی شریک تھے۔ وفد نے ایرانی حکام کے ساتھ علاقائی سلامتی، تعاون اور جاری جنگ کے تناظر میں تبادلہ خیال کیا۔

روئٹرز کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ علاقائی حکمت عملی تشکیل دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ الجزیرہ نے بھی اپنی رپورٹ میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ایران اور امریکہ کے درمیان آٹھ ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرانے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

ایران کی مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کا امکان

انٹرویو کے دوران جب احمد شریف چوہدری سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شرائط میں نئے رکن ممالک کی شمولیت پر کوئی پابندی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک اجتماعی دفاع، مشترکہ تحفظ اور علاقائی امن کے حوالے سے یکساں سوچ رکھتے ہیں، ان کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی نئے ملک کو معاہدے میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ تینوں بانی ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول طے کیا گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دفاعی تعاون، اجتماعی دفاع، انسدادِ دہشتگردی، عسکری ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کو کسی مخصوص فرقے یا خطے کے خلاف فوجی اتحاد کے بجائے دفاعی تعاون کے فریم ورک کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے پاکستان کے عزم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کے تحفظ کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ تاہم سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی اضافی تعیناتی کا فیصلہ حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

انہوں نے یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہے۔

خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان

انٹرویو کے دوران ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں اور ان کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں انٹیلیجنس معلومات کو بنیاد بنا رہی ہیں اور ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے یہ کوششیں جاری رہیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس لیے بھی اہمیت رکھتی ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کی صورت میں پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان رابطے نہ صرف جنگ بندی کی کوششوں بلکہ مستقبل میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کی نئی حکمت عملی تشکیل دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C