10/July/2026

بلوچستان میں لاشوں کے ساتھ دھرنے، کوئٹہ میں احتجاج شدت اختیار کر گیا

👁️ 138 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں لاشوں کے ساتھ دھرنے، کوئٹہ میں احتجاج شدت اختیار کر گیا

بلوچستان میں لاشوں کے ساتھ دھرنے، کوئٹہ میں احتجاج شدت اختیار کر گیا

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ  بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی سے متعلق حالیہ واقعات کے خلاف احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایئرپورٹ روڈ پر شدت پسندوں کے حملوں کے خلاف گزشتہ اتوار سے جاری دھرنے کے بعد اب کوئلہ پھاٹک پر بھی ایک نیا دھرنا شروع ہو گیا ہے۔

 

کوئلہ پھاٹک پر دیا جانے والا یہ دھرنا ضلع زیارت میں مانگی ڈیم فیز تھری کی تعمیراتی سائٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف ہے۔ 

 

گزشتہ پیر کو نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار ہلاک اور 21 اہلکار اغوا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں مغوی اہلکاروں کو ہلاک کر کے ان کی لاشیں زرغون غر کے علاقے میں پھینک دی گئیں۔

 

ان اہلکاروں کی لاشیں گزشتہ شب کوئٹہ منتقل کی گئیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد 13 اہلکاروں کی لاشیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں، جبکہ باقی آٹھ لاشوں کے ہمراہ کوئلہ پھاٹک پر احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

 

دھرنا کمیٹی کے رکن عبدالفیاض کے مطابق احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت کے بااختیار نمائندے مذاکرات کے لیے نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیارت کو دوبارہ مکمل طور پر پرامن بنایا جائے، حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور واقعے میں غفلت برتنے والے سرکاری حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

دوسری جانب کوئلہ پھاٹک کے علاقے میں گزشتہ اتوار سے ایک اور دھرنا بھی جاری ہے، جو کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں ہونے والے حملے کے خلاف دیا جا رہا ہے۔ اس حملے میں پانچ مقامی افراد ہلاک جبکہ 11 افراد اغوا ہوئے تھے۔

 

اس احتجاجی دھرنا کمیٹی کے رکن فرحان خان یوسفزئی نے کہا کہ وہ گزشتہ اتوار سے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بااختیار حکام ان سے مذاکرات کریں تاکہ مطالبات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

 

ان کے مطابق دھرنے کے تین بنیادی مطالبات ہیں: علاقے سے نامعلوم مسلح عناصر کا خاتمہ، 11 مغوی افراد کی فوری بازیابی، اور حملے میں متاثرہ خاندانوں کو معاوضے کی ادائیگی۔

 

ادھر ہنہ اوڑک اور زیارت میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر وفاقی حکام نے جمعرات کو کوئٹہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایپکس کمیٹی بلوچستان کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 

واضح رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے مطابق حملے کے دوران اس نے پولیس کی ایک گاڑی اور درجنوں سرکاری ہتھیار قبضے میں لیے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C