20/August/2021

بلوچستان: گوادر میں چینی قافلے پر خودکش حملہ، 2 بچے ہلاک، 3 افراد زخمی

👁️ 33 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: گوادر میں چینی قافلے پر خودکش حملہ، 2 بچے ہلاک، 3 افراد زخمی

بلوچستان: گوادر میں چینی قافلے پر خودکش حملہ، 2 بچے ہلاک، 3 افراد زخمی

کوئٹہ (بیورو رپورٹ) بلوچستان کے ضلع گوادر میں چین کے شہریوں کو لے جانے والی گاڑی کے قریب ‘خودکش دھماکے’ سے دو بچے ہلاک ہوگئے۔

خودکش دھماکے میں گاڑی کے ڈرائیور سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ دھماکا شام سات بجے کے قریب گوادر کے ایسٹ بے روڈ پر فشرمین کالونی کے قریب ہوا۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ ‘گوادر میں چین کے شہریوں کی گاڑی کے قریب خودکش حملے کی مذمت کرتا ہوں’۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے سے قریب ہی کھیلنے والے دو بچے ہلاک ہوئے اور چین کا ایک شہری معمولی زخمی ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل گوادر پولیس کے کنٹرول روم کا کہنا تھا کہ واقعے میں تین بچے زخمی ہوگئے ہیں جنہیں جی ڈی اے ہسپتال گوادر منتقل کردیا گیا ہے۔ خودکش دھماکا بلوچ وارڈ گوادر ایکسپریس وے کے قریب ہوا۔

وزارت داخلہ پاکستان کی ایک پریس ریلیز کے مطابق جمعہ کی شام تین گاڑیوں میں چینی شہریوں کو فوج اور پولیس کی نگرانی میں لے جایا جارہا تھا۔

جب چینی شہریوں کا قافلہ ایسٹ بے ایکسپریس وے پر ماہی گیروں کی کالونی کے قریب پہنچا تو وہاں سے ایک نوجوان لڑکا نکلااور چینی شہریوں کی گاڑیوں کو ہدف بنانے کے لیے بھاگا۔

اس موقع پر سادی کپڑوں میں ملبوس فوج کے اہلکار حملہ آور کو روکنے کے لیے بڑھے تو حملہ آور نے اپنے آپ کو قافلے سے 15 سے 20 میٹر کے فاصلے پر اڑا دیا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری بھی زخمی ہوا۔ انھیں گوادر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے پاکستان اور چین اپنے ممالک کے عوام کے لیے مختلف شعبوں میں تعاون کررہے ہیں اور دونوں ممالک اس باہمی تعاون کو خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ان خطرات کے پیش نظر حکومت پاکستان پہلے چینی بھائیوں کی تحفظ کے اقدامات پر جامع نظرثانی کررہی ہے اور ترقی کے سفر میں پاکستان میں قیام کے دوران ان کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت چینی بھائیوں کو ان خطرات سے جامع طور پر نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی یقین دہانی کراتی ہے۔

بیان میں معصوم پاکستانی بچوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے دونوں ممالک اپنی دوستی اور تعاون کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے اکھٹے کھڑے ہیں۔

اس دھماکے حوالے سے جائے وقوعہ کی جو تصاویر سوشل میڈیا آئیں اس میں انسانی اعضاءبکھرے ہوئے پڑے ہیں۔

دوسری جانب گوادر میں چینی انجنیئروں کے قافلے پر خودکش حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرلی۔

ترجمان بی ایل اے نے دعوی کیا ہے کہ اس حملے میں کم از کم 9 چینی انجنیئر اور ورکر ہلاک و متعدد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کے فدائی سربلند بلوچ عرف عمر جان نے کیا۔

خیال رہے کہ 15 اگست کو بلوچستان کے ضلع لورالائی کے قریب فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک اہلکار ہلاک اور میجر سمیت 2 زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے قبل 8 اگست کو کوئٹہ میں جناح روڈ کے قریب تنظیم چوک پر سرینا ہوٹل کے سامنے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار ہلاک اور 8 اہلکاروں سمیت 21 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ 14 جولائی کو بھی ضلع کوہستان کے علاقے داسو میں توانائی کے زیر تعمیر ہائیڈرو پلانٹ کے پاس ہی چینی انجینیئرز کی ایک بس پر بھی خود خکش حملہ ہوا تھا۔ اس بس میں سوار تقریبا دس چینی ورکرز اور تین پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C