جرمنی میں دائیں بازو کے جنگجوؤں کی تلاش، سرچ آپریشن میں تیزی
👁️ 22 بار دیکھا گیا
جرمنی میں دائیں بازو کے جنگجوؤں کی تلاش، سرچ آپریشن میں تیزی
برلن (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے/رائٹرز) جرمن پولیس نے انتہائی دائیں بازو کے دو جنگجوؤں کے سرچ آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کو رہا کر دیا ہے۔ شک تھا کہ یہ دونوں ریڈ آرمی فیکشن کے سابق رکن تھے۔
جرمن پولیس نے کچھ دن قبل ہی ریڈ آرمی فیکشن کی سابق رکن خاتون ڈانئیلا کلیٹے کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد دارالحکومت برلن میں اس سابق دہشت گرد گروپ کے دیگر ممبران کی تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا تھا۔
کچھ دنوں کی مسلسل کارروائیوں کے بعد پولیس نے اتوار تین مارچ کو بتایا کہ اس انتہائی دائیں بازو کے گروپ کے دو مزید سابق ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بتایا گیا تھا کہ دونوں مشتبہ افراد اس دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔
پولیس نے قبل ازیں بتایا تھا کہ ان افراد کی گرفتاری کے آپریشن کے دوران فائرنگ بھی ہوئی لیکن کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہ ہوا۔ تاہم کچھ گھنٹوں بعد پولیس نے ان افراد کو یہ کہتے ہوئے رہا کر دیا کہ یہ دونوں مطلوبہ افراد نہیں ہیں۔
یہ کیس ہے کیا؟
پولیس نے کچھ دن قبل بتایا تھا کہ ایرنسٹ فولکر شٹاؤب اور بور کہارڈ گارویگ نامی دو افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
سابق دہشت گرد گروہ ریڈ آرمی فیکشن کی ممبر ڈانئیلا کلیٹے اور ان دونوں افراد پر الزام ہے کہ یہ اقدام قتل اور مسلح ڈاکوں کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تقریباﹰ30 برسوں سے روپوش یہ افراد اپنی مجرمانہ سرگرمیاں چلانے کی خاطر اسی طرح کے جرائم سے رقوم حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ کلیٹے کو برلن سے ہی گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس کو یقین تھا کہ اس خاتون کے دیگر دونوں ساتھی بھی برلن میں ہی روپوش ہیں۔
ریڈ آرمی فیکشن کیا ہے؟
کلیٹے، شٹاؤب اور گارویگ پر الزام ہے کہ ریڈ آرمی فیکشن کے رکن یہ تینوں افراد سن 1999 سے 2016 تک متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ الزام ہے کہ یہ اپنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو عملی جامہ پہننانے کی خاطر انہی مجرمانہ کارروائیوں سے رقوم جمع کرتے رہے۔
ان پر الزام ہیں کہ یہ مسلح ڈکیتیوں میں ملوث رہے اور انہوں نے اس دوران کئی افراد کو ہلاک کرنے کی کوشش بھی کی۔ یہ تینوں افراد ایک طویل عرصے سے روپوش تھے۔
ریڈ آرمی فیکشن (RAF) نامی جنگجو گروہ ستّر اور اسّی کی دہائی میں اس وقت کے مغربی جرمنی میں متعدد حملوں اور اغوا کی وارداتوں میں ملوث تھا۔ تب اس گروپ کے ممبران کی تعداد تقریبا تیس بتائی جاتی تھی۔
حکام کا کہنا ہے اس گروہ کی کارروائیوں کی وجہ سے کم ازکم دو سو افراد زخمی ہوئے۔ اس وقت کی مغربی جرمن حکومت اس گروہ کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔
سن 1998 میں یہ گروہ تحلیل کر دیا گیا تھا۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ سابق دہشت گرد گروہ اب بھی فعال ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی کوریا: پانچ لاکھ ڈرون جنگجو تیار کیے جائیں گے
27/June/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
یوکرین کا روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ
27/June/2026 👁️ 147 بار دیکھا گیا
اسرائیل اور لبنان میں امریکی ثالثی سے فریم ورک معاہدہ طے
27/June/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، دو حملہ آور ہلاک
27/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
جنگ بندی کیخلاف ورزی: امریکہ کا ایران میں اہداف پر فضائی حملہ
27/June/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
50 سال بعد اسرائیل نے اینتیبے آپریشن کے خفیہ راز بے نقاب کر دیے
27/June/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8859 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4633 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3312 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2481 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2159 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1927 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C