27/June/2026

جنگ بندی کیخلاف ورزی: امریکہ کا ایران میں اہداف پر فضائی حملہ

👁️ 52 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنگ بندی کیخلاف ورزی: امریکہ کا ایران میں اہداف پر فضائی حملہ

جنگ بندی کیخلاف ورزی: امریکہ کا ایران میں اہداف پر فضائی حملہ

واشنگٹن ڈی سی (ڈیلی اردو) صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا مؤقف سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کا اعلان کیا ہے۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

 

سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی کارگو جہاز پر ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔

 

ایران کی جانب سے ان حملوں پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایرانی میڈیا نے جنوبی ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرنے کی اطلاع دی ہے۔

 

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان کارروائیوں کو ’’طاقتور جواب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہاز رانی پر حملوں نے خطے کی میری ٹائم سکیورٹی کو متاثر کیا ہے۔

 

سینٹ کام نے مزید کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت اور محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز پر حملے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا تھا۔

 

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کو جنگ بندی کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ جمعرات کی شب ایک ڈرون حملے میں کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

 

یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی ترسیل کی اہم ترین آبی گزرگاہ ہے اور خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ فروری کے اختتام پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے آغاز کے بعد سے تہران نے عملاً آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے، اور اس کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔

 

امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ اس سمجھوتے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اگلے 60 روز تک تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائے گا۔

 

جمعہ کی دوپہر وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ امریکہ ممکنہ طور پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کا کس طرح ردعمل دے گا یا آیا صدر ٹرمپ اس حملے کے بعد بھی جنگ بندی کو برقرار سمجھتے ہیں۔

 

صدر ٹرمپ نے اس نوعیت کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ’آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا۔‘ ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یہ بات پسند نہیں آئی کہ انھوں (ایران) نے حملہ کیا۔ انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C