26/October/2026

حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی تیل پائپ لائن پر نئے حملوں کا دعویٰ، سعودی اتحاد نے میزائل روکنے کی تصدیق کردی

👁️ 42 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی تیل پائپ لائن پر نئے حملوں کا دعویٰ، سعودی اتحاد نے میزائل روکنے کی تصدیق کردی

حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی تیل پائپ لائن پر نئے حملوں کا دعویٰ، سعودی اتحاد نے میزائل روکنے کی تصدیق کردی

ریاض (ڈیلی اردو) یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ایئرپورٹ اور مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام نے تیل پائپ لائن اور ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصان کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے پیر 26 اکتوبر کو کہا کہ ریاض ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کیا گیا، جبکہ تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب یمن میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا کہ اس نے دارالحکومت صنعا میں بیلسٹک میزائل داغنے والے دو مقامات کو تباہ کر دیا ہے۔ اتحاد کے مطابق ان میں سے ایک مقام سے ریاض کی جانب میزائل داغا گیا تھا، جسے سعودی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو اور دیگر عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں حالیہ دنوں کے دوران ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی اتحاد نے بھی یمن میں حوثیوں کی میزائل تنصیبات، لانچروں اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مقامات کے خلاف کارروائیوں کی اطلاع دی ہے۔

سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل پائپ لائن تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے اور مشرقی صوبے میں تیل کی پیداوار کے اہم مراکز کو بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔ سعودی آرامکو کے زیر انتظام یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی ترسیل اور برآمدات کے لیے انتہائی اہم ہے۔

توانائی کے شعبے سے متعلق عالمی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے دوران اس پائپ لائن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے سعودی عرب خلیج فارس کے بجائے بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی ترسیل جاری رکھ سکتا ہے۔ پائپ لائن یا اس کے پمپنگ اسٹیشنوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں تیل کی نقل و حمل اور عالمی منڈیوں کو رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C