27/October/2026

حوثیوں کا سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ، تنصیب کے قریب آگ لگنے کی اطلاع

👁️ 52 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حوثیوں کا سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ، تنصیب کے قریب آگ لگنے کی اطلاع

حوثیوں کا سعودی عرب کی راس تنورہ آئل ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ، تنصیب کے قریب آگ لگنے کی اطلاع

ریاض / صنعاء (ڈیلی اردو) یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم سعودی حکام نے حملے کی حوثی دعوے کے مطابق تفصیلات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے منگل کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کے جنگجوؤں نے راس تنورہ ریفائنری پر میزائل داغا اور وہ اپنے ہدف تک پہنچ گیا۔ حوثی ترجمان نے تنصیب میں آگ لگنے کا دعویٰ بھی کیا۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ منگل کی صبح راس تنورہ آئل ٹرمینل کے قریب لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔ ان اطلاعات سے حملے کے دعوے اور آگ لگنے کی خبر سامنے آئی ہے، تاہم نقصان کی مکمل نوعیت واضح نہیں ہو سکی۔

سعودی عرب کے سول ڈیفنس نے بھی منگل کو نجران، ابہا اور خمیس مشیط میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر ابتدائی انتباہی الرٹ جاری کیے تھے، جس کے بعد حکام نے خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا۔ تاہم ان انتباہات کی وجہ اور ان کا راس تنورہ کے واقعے سے تعلق واضح نہیں کیا گیا۔

روئٹرز کے مطابق، سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اسی روز دعویٰ کیا کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کی جانب حوثیوں کے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل اور چار ڈرونز روک کر تباہ کر دیے۔ یہ تعداد ابتدائی رپورٹ میں بیان کیے گئے تین میزائلوں اور چار ڈرونز کے مطابق ہے، جبکہ راس تنورہ پر حملے کی کامیابی سے متعلق حوثیوں کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

راس تنورہ سعودی عرب کی توانائی کی صنعت کے اہم مراکز میں شامل ہے۔ خلیج فارس کے ساحل پر واقع اس ریفائنری کی یومیہ تیل صاف کرنے کی صلاحیت تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار بیرل بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ تیل کی برآمد کے لیے اہم ٹرمینل بھی موجود ہے۔ سعودی عرب کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ راس تنورہ اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع کی بندرگاہ کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، اس لیے وہاں کسی بھی حملے یا آپریشن میں خلل کے عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق، حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے کیے ہیں، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بعض میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے اور حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات دی ہیں۔ دونوں جانب کے دعوؤں میں سے ہر واقعے کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

سعودی عرب مارچ 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کرتا رہا ہے۔ حوثی ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد یمن کے کئی علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور انہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ راس تنورہ کے واقعے کے بعد اس بات کا تعین اہم ہوگا کہ آیا ریفائنری یا تیل کی برآمدات کو حقیقی نقصان پہنچا اور سعودی حکام اس حملے کے بارے میں مزید کیا تفصیلات جاری کرتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C