25/September/2026

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب

👁️ 90 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے فوجی سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب

ریاض (ڈیلی اردو) سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی علاقوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب کو مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ معاونت کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت فوجی سربراہان کے اجلاس کی تیاریوں پر بات چیت کی، جبکہ معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچے، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

تینوں وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی حکام کے مطابق حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حکام نے جمعرات کو طائف اور ینبع کی سمت داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ حوثی باغیوں نے بھی سعودی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں۔

تاہم پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب کو کس نوعیت کی عملی یا فوجی مدد فراہم کی جائے گی، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی فوجی سربراہان کے اجلاس کی تاریخ یا ممکنہ اقدامات کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C