20/June/2026

خلیجی ممالک پر حملوں کیلئے عراق میں ’خفیہ‘ ایرانی سیلز

👁️ 118 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خلیجی ممالک پر حملوں کیلئے عراق میں ’خفیہ‘ ایرانی سیلز

خلیجی ممالک پر حملوں کیلئے عراق میں ’خفیہ‘ ایرانی سیلز

عراق (ڈیلی اردو/روئٹرز) ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی نے عراق میں نئے’خفیہ‘ سیلز قائم کیے ہیں، جن کا مقصد خلیج فارس کے ان ممالک کو نشانہ بنانا ہے، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

 

روئٹرز کے مطابق آٹھ عراقی ذرائع، جن میں فوجی اور سکیورٹی حکام کے علاوہ مقامی ملیشیا کمانڈر بھی شامل ہیں، نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ نئے گروپ روایتی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نیٹ ورکس سے الگ کام کرتے ہیں اور براہ راست ایران میں پاسداران انقلاب اسلامی کو جواب دہ ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق تین یا چار خفیہ سیلز، جن میں سے ہر ایک میں تقریباً 10 تربیت یافتہ عراقی شیعہ جنگجو شامل ہیں، نے 20 اپریل سے 17 مئی کے درمیان کم از کم سات ڈرون حملے کیے۔

 

یہ حملے عراق کے جنوبی شہروں بصرہ اور سماوا کے قریب صحرائی علاقوں سے کیے گئے اور ان میں مبینہ طور پر کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

 

ذرائع کے مطابق ان نئے گروپوں کے بعض ارکان المقاومہ الاسلاميہ فی العراق یعنی’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ نامی تنظیم سے لیے گئے ہیں، جو ہزاروں جنگجوؤں پر مشتمل کئی مسلح شیعہ دھڑوں کا اتحاد ہے۔

 

تاہم یہ نئے سیلز اس تنظیم کے کمانڈ ڈھانچے سے باہر کام کرتے ہیں اور ان کے لیے ہدایات براہ راست ایرانی پاسداران انقلاب سے آتی ہیں۔

 

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی یہ حکمت عملی ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب خطے میں تہران کے پراکسی گروپوں کی طاقت کمزور ہوئی ہے اور ایران خود بھی فوجی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔

 

عراق میں شیعہ اکثریت ہونے کے باعث متعدد مسلح گروہوں کے تہران کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ یہ گروہ ایران کے علاقائی اتحاد، جسے عام طور پر'محور مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق عراق کے چند بااثر شیعہ گروہوں نے گزشتہ سال سے یہ اشارے دینا شروع کیے تھے کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر ملکی سیاست پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی سے بچا جا سکے۔

 

رواں ماہ دو اہم گروہوں، 'عصائب اہل الحق‘ اور 'امام علی بریگیڈ‘ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ہتھیار سرکاری حکام کے حوالے کرنے کا عمل شروع کریں گے۔

 

یہ فیصلہ مبینہ طور پر عراقی حکومت کو امریکہ کی جانب سے دی جانے والی بار بار کی ان تنبیہات کے بعد سامنے آیا، جن میں ملک کے اندر سرگرم مسلح گروہوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

 

عراقی فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل اور مسلح شیعہ گروہوں سے متعلقہ امور کے ماہر، جاسم البحادلی کے مطابق نئے سیلز نسبتاً چھوٹے، زیادہ نظریاتی اور سخت مرکزی کنٹرول کے تحت دکھائی دیتے ہیں۔

 

ان کے بقول، ''ایران معاشی دباؤ اور محدود وسائل کے باعث ایسے گروپ تشکیل دے رہا ہے جو کم وسائل میں زیادہ مؤثر طریقے سے کام کر سکیں اور براہ راست اس کے کنٹرول میں ہوں۔‘‘

 

اس رپورٹ میں پیش کیے گئے تمام دعوے عراقی ذرائع کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ ایران، عراق اور متعلقہ خلیجی ممالک کی جانب سے اس بارے میں فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C