27/August/2021

داعش نے کابل ایئرپورٹ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی، ہلاکتوں کی تعداد 113 ہو گئی

👁️ 26 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
داعش نے کابل ایئرپورٹ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی، ہلاکتوں کی تعداد 113 ہو گئی

داعش نے کابل ایئرپورٹ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لی، ہلاکتوں کی تعداد 113 ہو گئی

کابل (ڈیلی اردو/رائٹرز/وی او اے) کابل ایئرپورٹ کے باہر جمعرات کو ہونے والے دو خودکش دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 150 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ دہشت گرد تنظیم داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے بیرونی دروازے پر دو بم دھماکوں میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 18 زخمی ہوئے ہیں جب کہ 90 سے افغان شہری بھی ان دھماکوں کی نذر ہوئے ہیں۔

طالبان رہنما نے دعوی کیا ہے کہ ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ان کے کم از کم 28 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔
روئٹرز سے بات کرتے ہوئے طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’ہمیں امریکیوں سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔‘

جمعرات کو ہونے والے حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور یہ 2011 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لیے سب سے زیادہ خونریز دن ہے۔
طالبان رہنما کے مطابق اس حملے کے باوجود امریکہ کو اپنے انخلا کی تاریخ میں توسیع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مزید حملوں کے خدشات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے جس کے پیشِ نظر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے انخلا کا عمل روک دیا ہے۔

کابل ایئرپورٹ کے بیرونی دروازے بند ہیں اور شہریوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ داعش خراسان کابل ایئرپورٹ پر حملوں کی ذمہ دار ہے جسے کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور اس تنظیم کی قیادت، اس کی تنصیبات اور اثاثوں کو نشانہ بنانے کے لیے انہوں نے امریکی کمانڈروں کو حکم دے دیا ہے۔

صدر بائیڈن کا مزید کہنا ہے کہ “ہم اس حملے کو کبھی بھولیں گے اور نہ اس کے ذمہ داروں کو معاف کریں گے۔ ہم اس کے ذمہ داروں کو ڈھونڈ نکالیں گے اور انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔”

‘رائٹرز’ کے مطابق داعش امریکہ کے ساتھ ساتھ طالبان کی بھی دشمن تنظیم ہے جس نے ایک بیان میں کابل حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ایک خودکش بمبار نے امریکی فوج کی مدد کرنے والے مترجموں اور معاونین کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے داعش کی جانب سے مزید حملوں کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کمانڈرز کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے چوکنا ہیں۔

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملے یا بارود سے بھری گاڑیوں کی مدد سے حملہ بھی ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا سے متعلق صدر بائیڈن کی طے کردہ ڈیڈ لائن 31 اگست ہے۔ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کے بعد بھی امریکی صدر مذکورہ تاریخ تک فوجی انخلا کرنے پر قائم ہیں۔

البتہ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ آخری لمحے تک انخلا کا عمل جاری رکھے گا۔

کابل ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن نے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی جس کے دوران انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت کی جانب سے انخلا کا آپریشن جاری رہے گا۔

امریکہ کی جانب سے کابل ایئرپورٹ سے شہریوں کے انخلا کے لیے پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بدھ کو ہی امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا تھا کہ 1500 امریکی شہری بدستور افغانستان میں موجود ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C