06/October/2026

دُکی سے اغوا 12 مزدوروں میں ایک قتل، شاہد کی لاش کوہلو سے برآمد، 11 تاحال لاپتا

👁️ 55 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دُکی سے اغوا 12 مزدوروں میں ایک قتل، شاہد کی لاش کوہلو سے برآمد، 11 تاحال لاپتا

دُکی سے اغوا 12 مزدوروں میں ایک قتل، شاہد کی لاش کوہلو سے برآمد، 11 تاحال لاپتا

کوئٹہ(ڈیلی اردو) بلوچستان کے ضلع دُکی میں تعمیراتی کمپنی کے کیمپ سے اغوا کیے گئے 12 مزدوروں میں سے ایک کو مبینہ طور پر قتل کردیا گیا، جبکہ باقی 11 مزدور تاحال اغوا کاروں کی تحویل میں ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق مقتول مزدور کی شناخت شاہد کے نام سے ہوئی ہے جو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کا رہائشی تھا۔ شاہد کی لاش دُکی سے متصل ضلع کوہلو کے علاقے نربن سے ملی، جسے قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد آبائی علاقے رحیم یار خان روانہ کردیا گیا۔

دُکی پولیس کے مطابق شاہد کو گولی مار کر قتل کیا گیا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ دیگر مغوی مزدوروں کا سراغ لگانے کے لیے سکیورٹی ادارے مختلف علاقوں میں تلاش اور اطلاعات جمع کرنے کی کارروائی کررہے ہیں۔

یہ 12 مزدور 25 ستمبر کی شب دُکی کے علاقے پلری میں سڑک تعمیر کرنے والی ایک کمپنی کے کیمپ پر مسلح حملے کے بعد اغوا کیے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق بڑی تعداد میں مسلح افراد نے کیمپ پر دھاوا بولا، جہاں سکیورٹی گارڈز کی جانب سے مزاحمت کے دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

حکام کے مطابق حملہ آوروں نے کمپنی کی چار گاڑیوں اور تعمیراتی مشینری کو آگ لگانے کے بعد کیمپ میں موجود مزدوروں کی شناخت کی اور 12 افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مغوی مزدوروں میں بڑی تعداد پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی تھی جبکہ دیگر کا تعلق خیبرپختونخوا اور مقامی علاقوں سے بتایا گیا تھا۔

واقعے کے بعد پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مغویوں کی بازیابی اور حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔

مغوی مزدوروں کی ایک ویڈیو بھی چند روز قبل سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی جس میں ایک مزدور نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری مدد کی اپیل کی تھی۔ ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم اس میں مغویوں کی جانب سے اپنی جانوں کو لاحق خطرے کا اظہار کیا گیا تھا۔

شاہد کی ہلاکت کے بعد باقی 11 مزدوروں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکام کی جانب سے ان کی موجودہ صورتحال اور اغوا کاروں کی شناخت کے بارے میں تاحال کوئی تفصیلی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

بلوچستان میں تعمیراتی منصوبوں، کان کنی اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں سے وابستہ مزدور اس سے قبل بھی مسلح حملوں اور اغوا کی کارروائیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ دُکی سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے باعث تعمیراتی اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C