دہشتگرد سے فوجی تک کا خطرناک سفر (ساجد خان)
آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ حکومت میں اعلیٰ سطح پر حکومت کو ایک تجویز پیش کی گئی تھی کہ پاکستان میں موجود کالعدم تنظیموں کو نا صرف قومی دھارے میں لایا جائے بلکہ ان تنظیموں کے ملٹری ونگز کو پیرا ملٹری فورسز میں شامل کیا جائے۔
اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا تھا،جس کے بعد ایک تناؤ کا ماحول پیدا ہو گیا۔
اس منصوبے پر نوازشریف حکومت میں کیونکہ عمل درآمد کرنا ممکن نہیں تھا،اس لئے پی ٹی آئی حکومت میں یہ منصوبہ ایک بار پھر سے سر اٹھا رہا ہے۔
آج نامور صحافی حامد میر نے بھی وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں ذکر کیا ہے کہ گزشتہ حکومت میں کالعدم تنظیموں کے مدارس کو قومی تحویل میں لینے اور ان کے کارکنان کو پیرا ملٹری فورسز میں بھرتی کرنے کا جو منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا تھا،اس منصوبے کے لئے اگلے بجٹ میں فنڈ کا اضافہ کر دیا جائے گا۔
حامد میر نہایت ہی باخبر اور ذمہ دار صحافی ہیں،انہوں نے یہ خبر تصدیق کے بعد ہی دی ہو گی۔اس لئے اس خبر میں ضرور صداقت ہو گی۔
یہ خبر مجھ جیسے ایک عام پاکستانی کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر کالعدم تنظیمیں اتنی ہی اچھی تھیں تو ریاست نے ان پر پابندی عائد ہی کیوں کی تھی اور کیا یہ منصوبہ اتنا آسان ہے کہ عالمی سطح پر اسے تسلیم کر لیا جائے گا ؟
اس طرح کی ایک کوشش عراق میں وزیراعظم حیدر العبادی کے دور میں کی گئی تھی مگر اسے بھی اندرونی اور بیرونی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا،جس کے بعد یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا۔
آپ ایک لمحے کے لئے منصف مزاج بن کر اس منصوبے پر توجہ دیں کہ اسی انتہا پسندانہ سوچ نے گزشتہ پندرہ سالوں میں ہمارے اسی ہزار شہریوں کی جان لی ہے۔
جی ایچ کیو سے لے کر نیول بیس تک کے ہر حملے میں جس اندرونی امداد کے ساتھ حملہ کیا گیا،وہ سب یہی انتہا پسندانہ سوچ کے حامل تھے۔
دو دہائیوں کی تباہی کے بعد بھی ہم اس بات سے سبق حاصل کرنے کے بجائے الٹا انہیں اپنے ہی حساس ترین اداروں میں شامل کرنے جا رہے ہیں۔
اب یہاں اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا سب کالعدم تنظیموں کو یہ موقع دیا جائے گا یا مخصوص تنظیمیں اس سے فائدہ اٹھائیں گی۔
پاکستان میں اہل تشیع کی بھی چند کالعدم تنظیمیں موجود ہیں،کیا انہیں بھی قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔
کیا بلوچستان کی کالعدم تنظیمیں بی ایل اے وغیرہ کو بھی یہ موقع فراہم کیا جائے گا ؟
کیا پختونوں کی پی ٹی ایم کو بھی اپنا سمجھ کر قومی دھارے میں لایا جائے گا گو کہ وہ کالعدم بھی نہیں ہے ؟
کالعدم تنظیم تو پاکستان تحریک طالبان بھی ہے،کیا اسے بھی یہ سنہری موقع فراہم کیا جائے گا ؟
تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان کو بھی پیرا ملٹری فورسز میں شامل کیا جائے گا یا صرف مخصوص مکتب فکر کی دہشتگرد تنظیمیں ہی اس سے استفادہ حاصل کر سکیں گی ؟
قابل غور بات یہ بھی ہے کہ انہی کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کی وجہ سے پاکستان اگلے چند ماہ میں بلیک لسٹ ہونے کے خطرات سے دوچار ہونے جا رہا ہے تو کیا دنیا اس فیصلے کو تسلیم کر لے گی کہ جن کو وہ سرے سے ہی دہشتگرد قرار دے رہے تھے،آج وہ پاکستان کی افواج کا حصہ بن جائیں۔
آخر ایسے تجربات کرنے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہو رہی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ یہاں کچھ نام نہاد دانشور اس منصوبے کے دفاع پر افغانستان کی مثال دیں کہ وہاں بھی تو طالبان کے ساتھ مذاکرات کۓ جا رہے ہیں اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو پاکستان میں یہ منصوبہ کیوں نہیں آزمایا جا سکتا تو ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آخر افغانستان میں یہ ضرورت کیوں پیش آئی۔
افغانستان میں فوج اتنی طاقتور نہیں ہے کہ وہ دہشتگرد تنظیموں کا مقابلہ کر سکے جبکہ موجودہ صورتحال میں ایک نۓ دشمن داعش نے بھی اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں جو کہ طالبان سے کہیں زیادہ خطرناک اور سفاک ہے۔اس وجہ سے یہ ضرورت پیش آئی کہ افغانستان میں خون ریزی ختم کر کے امن قائم کیا جائے اور دونوں کے مشترکہ دشمن داعش کا مقابلہ کیا جا سکے۔
پاکستان کی صورتحال بالکل ہی مختلف ہے،ہماری افواج طاقتور ہیں جبکہ کالعدم تنظیمیں انتہائی کمزور ہیں کہ ہمیں انہیں یوں دہشتگرد سے فوجی جوان بنایا جائے۔
یہ منصوبے وہاں سامنے آتے ہیں جن ممالک کی فوج ملک دشمن تنظیموں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
آپ ذرا تصور کیجئے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے بعد پاکستان کی حالت کیا ہو گی۔
میجر رمضان مینگل کوئٹہ میں ہزارہ برادری کی حفاظت کی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہو گا تو بریگیڈئیر احمد لدھیانوی پنجاب میں درباروں اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کا ذمہ دار ہو گا تو کالعدم تنظیموں کے فوجی جوان احمدی برادری کی حفاظت کے لئے مامور ہوں گے۔
کرنل احسان اللہ احسان پی ٹی ایم سے امن مذاکرات کرتا نظر آۓ گا۔
یہ سب دیکھ کر تو مجھے وہی محاورہ یاد آتا ہے کہ گوشت کا رکھوالا بلا۔
پاکستان میں ایک بار پھر ضیائی سوچ کو تقویت پہنچائی جا رہی ہے۔
ہمارے ملک میں مظلوم طبقے پر جب بھی کوئی دہشتگرد تنظیم ظلم کرتی تھی تو وہ ہمیشہ پاکستانی افواج سے فریاد کرتی تھی لیکن اس منصوبے کے بعد مظلوم طبقہ اس ادارے سے بھی کوئی امید نہیں رکھ سکے گا۔
نوٹ:کالم/ تحریر میں خیالات کالم نویس کے ہیں ۔ ادارے اور اس کی پالیسی کاان کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
نیتن یاہو کا نیا دفاعی منصوبہ، ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلحہ سازی میں خود کفالت پر زور
19/October/2026 👁️ 92 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو ایران کے ساتھ نئی جنگ کے لیے واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں، عباس عراقچی کا الزام
19/October/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
تل ابیب سے ویانا جانے والی پرواز کی صوفیہ میں ہنگامی لینڈنگ، بم کی دھمکی پر مسافروں سے پوچھ گچھ
19/October/2026 👁️ 63 بار دیکھا گیا
یمن میں سعودی فضائی حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک و زخمی ، حوثی باغیوں کا دعویٰ
19/October/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس آپریشنز کا منصوبہ، نقل مکانی نہ ہونے کی یقین دہانی
19/October/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
حوثیوں کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے دور رہنے کی وارننگ، حملوں میں شدت کا خدشہ
18/October/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26383 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15620 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11914 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9268 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7525 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5473 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C