05/November/2026

سعودی حملے روکنے کے لیے حوثیوں کا 51 ارب ڈالر معاوضے اور حکمرانی تسلیم کرنے کا مطالبہ

👁️ 46 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سعودی حملے روکنے کے لیے حوثیوں کا 51 ارب ڈالر معاوضے اور حکمرانی تسلیم کرنے کا مطالبہ

سعودی حملے روکنے کے لیے حوثیوں کا 51 ارب ڈالر معاوضے اور حکمرانی تسلیم کرنے کا مطالبہ

ریاض (ڈیلی اردو) یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے ساتھ جاری کشیدگی ختم کرنے اور حملے روکنے کے لیے مبینہ طور پر 51 ارب ڈالر معاوضے اور یمن میں اپنی حکمرانی کو باضابطہ تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یمن میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرچکی ہے اور حوثیوں کے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ حملے روکنے اور تنازع کے خاتمے کے لیے کس نوعیت کا معاہدہ ممکن ہوسکتا ہے۔ مذاکرات سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ حوثیوں نے ابتدائی طور پر 51 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا، جسے انہوں نے سعودی فضائی حملوں اور طویل ناکہ بندی کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا معاوضہ قرار دیا۔ بعد ازاں مختلف مالی اعدادوشمار بھی زیر بحث آئے، تاہم گروپ کا بنیادی مطالبہ دسیوں ارب ڈالر کی ادائیگی اور یمن میں اپنی حکمرانی کی سرکاری سطح پر منظوری بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے مطالبات میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مقابلے میں خود کو ملک کی حکمران قوت تسلیم کرانا بھی شامل ہے۔ اس صورت میں سعودی عرب کو اپنی جنوبی سرحد کے قریب ایک ایسے گروپ کی سیاسی حیثیت تسلیم کرنا پڑے گی جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ حوثی گروپ 2014 سے یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت بڑے علاقوں پر قابض ہے، جبکہ ملک میں متوازی سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ چلا رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق رواں موسمِ گرما میں لڑائی دوبارہ بھڑکنے کے بعد حوثیوں نے سعودی تیل بردار جہازوں، توانائی تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں میں اپنی پوزیشن بھی مضبوط کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثی فورسز یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکز عدن سے تقریباً 50 میل کے فاصلے تک پہنچ چکی ہیں، جو 2015 کے بعد اس شہر کے قریب ان کی اہم ترین پیش قدمیوں میں شمار ہوتی ہے۔

تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے اے سی ایل ای ڈی کے حوالے سے رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکتوبر کے دوران سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں میں تیزی آئی اور شہری ہوائی اڈوں سمیت سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حالیہ دنوں میں سعودی سرزمین کے اندر حملوں کے 26 واقعات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ان حملوں نے سعودی عرب کی فضائی سلامتی، توانائی کی تنصیبات اور علاقائی تجارت کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

یمن کے جنوبی صوبے شبوا میں 19 اکتوبر کو حوثیوں کے میزائل حملے نے بھی لڑائی کی شدت کو نمایاں کیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے العَلَم فوجی کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جہاں حکومتی فورسز کے نئے اہلکار تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی گئی، تاہم بعد میں مقامی حکام نے کم از کم 53 افراد کی ہلاکت اور تقریباً 200 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ اس واقعے کو حالیہ لڑائی کے دوران ہونے والے بڑے جانی نقصانات میں شمار کیا گیا۔

سعودی عرب کے لیے حوثیوں کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کا فیصلہ بھی آسان نہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سعودی قیادت کو خدشہ ہے کہ مزید فوجی دستے یمن بھیجنے سے جانی نقصان بڑھ سکتا ہے اور ملک کے اندر ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں، ان کے زیر قبضہ علاقوں میں مضبوط زمینی پوزیشن اور سعودی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ ریاض کے لیے مسلسل سکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق طویل کشیدگی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور سعودی توانائی کے شعبے کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

اس صورتحال کے تناظر میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ تینوں ممالک کے سرکاری اعلامیے کے مطابق معاہدے میں یہ اصول شامل ہے کہ کسی ایک فریق پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی کے لیے نہیں۔

اکتوبر کے اواخر میں پاکستانی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب معاہدے کی توثیق مکمل کرچکے ہیں، جبکہ ترکیہ میں اس کی منظوری کا قانونی اور پارلیمانی عمل جاری ہے۔ معاہدے کو یمن میں حوثیوں کے خلاف کسی مخصوص فوجی کارروائی کی منظوری یا پاکستان کی جانب سے یمن میں جنگی مداخلت کے اعلان کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔

ادھر یمن میں تازہ لڑائی کے باعث انسانی بحران بھی سنگین ہوتا جارہا ہے۔ بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس نے 4 نومبر کو بتایا کہ تازہ جھڑپوں کے باعث تعز شہر تک امدادی رسائی کئی ہفتوں سے متاثر تھی، جس کے بعد طبی سامان کی چار گاڑیاں شہر پہنچائی گئیں۔ ادارے کے مطابق لڑائی نے خوراک، پانی، ایندھن اور طبی سہولیات کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں، جبکہ امدادی اداروں کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں لاکھوں افراد تک امداد پہنچانا مشکل ہوگیا ہے۔

یمن کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے سامنے ایک طرف حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی سرحدوں و تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانے کا چیلنج ہے، جبکہ دوسری جانب طویل جنگ کے معاشی اور انسانی اثرات سے بچنے کے لیے مذاکرات کا راستہ بھی موجود ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے بھاری مالی معاوضے اور حکمرانی تسلیم کرنے جیسے مطالبات کسی فوری معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C