08/October/2026

شام : حماہ میں سابق نظام کے 7 افراد گرفتار، ملیشیا کے بانی پر شہریوں کے قتل و تشدد کے الزامات

👁️ 45 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شام : حماہ میں سابق نظام کے 7 افراد گرفتار، ملیشیا کے بانی پر شہریوں کے قتل و تشدد کے الزامات

شام : حماہ میں سابق نظام کے 7 افراد گرفتار، ملیشیا کے بانی پر شہریوں کے قتل و تشدد کے الزامات

حماہ(ڈیلی اردو) شام کے صوبہ حماہ میں داخلی سکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں کے دوران سابق شامی نظام سے وابستہ 7 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں ’’فوج الشواہین‘‘ نامی ملیشیا کے بانیوں میں شامل ایک شخص بھی شامل ہے۔ گرفتار افراد پر شہریوں کے خلاف قتل، اغوا، تشدد، لوٹ مار اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

شامی خبر رساں ادارے سانا کے مطابق داخلی سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس نگرانی اور مسلسل معلومات کی بنیاد پر شاہین حمدان الشاہین کو گرفتار کیا، جس پر سابق نظام کے دور میں ’’فوج الشواہین‘‘ ملیشیا قائم کرنے میں کردار ادا کرنے کا الزام ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق شاہین حمدان الشاہین نے 2015 میں سہیل الحسن کی قیادت میں فضائی انٹیلی جنس کے ساتھ کام شروع کیا، جس کے بعد وہ مختلف مسلح گروہوں کی تشکیل اور سرگرمیوں میں شامل رہا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ 2017 میں حماہ کے مشرقی دیہی علاقوں اور اثریا۔رقہ شاہراہ پر شہریوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں ملوث رہا۔

سانا کے مطابق گرفتار شخص پر تدمر سے دیر الزور تک مختلف علاقوں میں قتل، گرفتاری، تشدد اور املاک کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں میں مسلح گروہوں کی قیادت کرنے کے الزامات بھی ہیں۔ اس سے تفتیش جاری ہے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اسی سلسلے میں حماہ کے مصیاف اور جنوبی دیہی علاقوں میں کی گئی الگ سکیورٹی کارروائیوں کے دوران مزید 6 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق نبیل عدنان اسماعیل اور غازی محمد اسماعیل سابق فضائی انٹیلی جنس سے وابستہ مسلح گروہوں میں کمانڈروں کے طور پر کام کرتے رہے اور ان پر شہریوں کے قتل، اغوا، لوٹ مار اور مالی طور پر بلیک میل کرنے کے الزامات ہیں۔

حکام کے مطابق طاہر یوسف المحمد اور طلال یوسف المحمد نامی دو بھائی سابق فضائی انٹیلی جنس اور سائنسی مطالعات و تحقیق کے مرکز سے وابستہ رہے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر قیدیوں سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل کرکے ان کے اہل خانہ کو دباؤ میں لانے اور بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کی۔

سکیورٹی فورسز نے فصیل بدور کو بھی گرفتار کیا، جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ 2012 سے سابق نظام کے مسلح گروہوں کا حصہ تھا اور حماہ و حلب کے مختلف دیہی علاقوں میں فوجی کارروائیوں میں شریک رہا۔ آصف سلامہ نامی ایک اور شخص کو بھی حراست میں لیا گیا، جو 2018 تک سابق نظام کی فورسز میں معاون کے طور پر کام کرتا رہا۔

شامی حکام کے مطابق تمام گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے، جس کے بعد انہیں متعلقہ عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سابق نظام سے وابستہ ان افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی جن پر شہریوں کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C