قبائلی ضلع کرم میں حالات چار روز سے کشیدہ
👁️ 37 بار دیکھا گیا
قبائلی ضلع کرم میں حالات چار روز سے کشیدہ
پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے قبائلی ضلع کرم میں چار روز سے جاری جھڑپیں رکوانے کے لیے انتظامیہ اور گرینڈ جرگے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں اور منگل کو بھی ضلعے کے مختلف علاقوں میں حالات شدید کشیدہ ہیں۔
کرم پولیس کے اہلکاروں کے مطابق منگل کو رات گئے تک بالیش خیل، خارکلے، پاڑا چمکنی، کڑمان، کنج علیزئی اور مقبل میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور فریقین ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے اپنے مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ضلع کرم میں سنیچر کے روز گاؤں بوشہرہ اور احمد زئی کے دو گھرانوں کے درمیان مورچوں کی تعمیر پر جھگڑا شروع ہوا تھا تاہم مقامی عمائدین اس جھگڑے کو رکوانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
بعدازاں حالات اس وقت خراب ہوئے جب کہ ایک علاقے میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے کے بعد بوشہرہ میں فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا جہاں ایک بار پھر حالات پر قابو پا لیا گیا لیکن کرم کے دیگر چار مقامات پر مخالف فرقوں کے قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا دائرہ پھر کرم بالا اور کرم زیریں تک پھیل گیا۔
متنازعہ اراضی پر مورچوں کی تعمیر کے معاملے پر شروع ہونے والی اس لڑائی میں پیر کی صبح تک 12 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی تاہم منگل کی صبح تک مزید تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاراچنار کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوراٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کے دن ان کے پاس 16 زخمی لائے گئے جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ تحصیل ہسپتال صدہ کے ڈاکٹر رحیم کا کہنا ہے کہ منگل کی صبح ایک راکٹ حملے میں ایک خاتون ہلاک اور ایک زخمی ہوئی ہیں جبکہ پیر کی شب بھی راکٹ گرنے سے ایک بچہ ہلاک اور دو خواتین زخمی ہوئی تھیں۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں اہلِ تشیع اور اہلِ سنت قبائل دونوں کے افراد شامل ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں خوف پایا جاتا ہے اور ساری رات فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود نے کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ جنگ بندی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور منگل کو بھی ایک اہم جرگہ ہو رہا ہے جس کے بعد امید ہے فائر بندی ہو جائے گی۔
سابق سینیٹر اور اس علاقے سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما ساجد طوری نے بی بی سی کو بتایا کہ گرینڈ جرگہ میں ہنگو، اورکزئی، کوہاٹ اور دیگر علاقوں کے عمائدین نے جھڑپیں رکوانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں لیکن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور منگل کو دونوں جانب سے تعلق رکھنے والے مقامی عمائدین پھر کوشش کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب تک ریاست اس میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی یہ مسئلے جاری رہیں گے۔ صرف مورچے خالی کرانا اور وہاں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو بٹھانے سے عارضی طور پر فائر بندی ہو جاتی ہے لیکن جو مسئلہ ہے اسے حل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جولائی میں جھڑپوں کے بعد متعدد جرگے ہوئے لیکن حکومت کی جانب سے زیادہ توجہ نہ دیے جانے سے معاملات حل نہیں ہو رہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام میں امریکی فضائی حملہ، داعش کا سینئر رہنما ہلاک
25/June/2026 👁️ 61 بار دیکھا گیا
جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ
25/June/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
بنوں: سرکاری سکول کے استاد اور ایف سی اہلکار اغوا، پولیس اسٹیشن پر ڈرون حملہ
25/June/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف کارروائی روکنے کی قرارداد منظور
25/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
لوئر دیر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 6 مطلوب دہشت گرد ہلاک
25/June/2026 👁️ 111 بار دیکھا گیا
ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے پر فریقین کے متضاد بیانات
25/June/2026 👁️ 129 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8853 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4619 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3305 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2474 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2129 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1920 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C