27/October/2026

محسن رضائی: تہران اجلاس علاقائی اتحاد کی تشکیل میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، بیرونی مداخلت کے بغیر سلامتی پر زور

👁️ 44 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
محسن رضائی: تہران اجلاس علاقائی اتحاد کی تشکیل میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، بیرونی مداخلت کے بغیر سلامتی پر زور

محسن رضائی: تہران اجلاس علاقائی اتحاد کی تشکیل میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے، بیرونی مداخلت کے بغیر سلامتی پر زور

تہران(ڈیلی اردو) ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کے درمیان تہران میں ہونے والے چار فریقی اجلاس کے بعد ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ ملاقات خطے میں مشترکہ سلامتی کے نظام اور علاقائی اتحاد کی تشکیل کی جانب عملی پیش رفت ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک نے اس مؤقف پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا کے مسائل کا حل علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے تلاش کیا جانا چاہیے، جبکہ بیرونی مداخلت سے گریز ضروری ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ چاروں ممالک کے درمیان تعاون خطے کو درپیش بحرانوں سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفود کی تہران آمد کو امریکی دباؤ کے باوجود علاقائی رابطوں کی اہمیت کی علامت قرار دیا۔ یہ ان کا سیاسی تجزیہ تھا؛ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں امریکی دھمکیوں سے متعلق کوئی تفصیلی مؤقف شامل نہیں تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق اجلاس میں فلسطین، لبنان، شام اور خطے کی مجموعی سلامتی کی صورتِ حال بھی زیرِ بحث آئی۔ رضائی نے کہا کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان، جنوبی شام، غزہ اور مغربی کنارے میں اپنی فوجی کارروائیاں روک کر ان علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے۔ یہ مطالبہ ایرانی عہدیدار کا بیان ہے، اسے چاروں ممالک کے مشترکہ اعلامیے کا حصہ قرار نہیں دیا گیا۔

اجلاس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے قومی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے شرکت کی۔ ایران کی جانب سے محسن رضائی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور خلیجی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ اگست میں طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے کے بعد ایران اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اعلیٰ سطح کا پہلا مشترکہ رابطہ تھا۔ اجلاس کا ایک اہم مقصد کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا اور مذاکرات کے لیے راستے کھولنا تھا۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی سفارتی حل اور بات چیت کے ذریعے فوجی کشیدگی کی واپسی روکنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں چاروں ممالک نے علاقائی تعاون، امن اور سلامتی کے معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ تاہم اعلامیے میں کسی نئے فوجی اتحاد کے قیام، مشترکہ دفاعی کمان یا باقاعدہ سلامتی کے نظام کے نفاذ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے علاقائی اتحاد کی تشکیل سے متعلق محسن رضائی کی امید کو مستقبل کے امکان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی حتمی فیصلے کے طور پر۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

تازہ ترین خبریں

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C