30/October/2026

ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو طویل تنازع نہیں بننے دیں گے، جے ڈی وینس کا بیان؛ تہران کو مذاکرات کا پیغام بھی ارسال

👁️ 47 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو طویل تنازع نہیں بننے دیں گے، جے ڈی وینس کا بیان؛ تہران کو مذاکرات کا پیغام بھی ارسال

ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو طویل تنازع نہیں بننے دیں گے، جے ڈی وینس کا بیان؛ تہران کو مذاکرات کا پیغام بھی ارسال

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع کو طویل اور لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک طویل فوجی مداخلتوں کی مخالفت کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے فوجی طاقت استعمال نہیں کرسکتا۔

برطانوی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے پروگرام میں ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں ووٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی مہمات کے حوالے سے عوامی مایوسی کو سمجھتے ہیں۔ عراق میں اپنی فوجی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا گزشتہ سات ماہ سے کسی نہ کسی شکل میں ایران کے معاملے میں مصروف ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ 47 برس پر محیط ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ امریکی اہداف حاصل کرنے کے بعد دیگر ترجیحات پر توجہ مرکوز کریں گے۔

دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کو تہران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے لیے اہم رابطہ سمجھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے رضائی کو ایک پیغام ارسال کیا ہے، جس میں واضح کیا گیا کہ واشنگٹن کی بنیادی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ امریکا نے مذاکرات کے لیے ایسے ایرانی نمائندوں کی شرکت پر بھی زور دیا ہے جنہیں جوہری معاملے پر فیصلے اور بات چیت کا اختیار حاصل ہو۔

امریکی حکام کے مطابق محسن رضائی کے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے قریبی رابطے ہیں اور دونوں کے درمیان حالیہ دنوں میں بات چیت بھی ہوئی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ممکنہ مذاکرات کے لیے استنبول یا دوحہ کو زیر غور لایا جا سکتا ہے، تاہم ملاقات کی حتمی تاریخ یا مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی قوت میں اضافے کے ساتھ سفارتی حل کے لیے دستیاب وقت محدود ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکی اخبار اور دیگر عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینس کی یہ سفارتی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، جوہری پروگرام اور پابندیوں کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔ صدر ٹرمپ نے وینس کے ذریعے ایران کو پیغام بھیجنے کی اجازت دینے کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس رابطے کا مقصد بنیادی طور پر انسانی امداد کی فراہمی تھا، نہ کہ فوری طور پر مذاکرات کی بحالی۔ یوں امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایک طرف فوجی دباؤ برقرار رکھنے اور دوسری طرف سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C