پشاور پولیس لائنز دھماکا: خودکش حملہ آور پولیس کی وردی میں تھا، آئی جی
👁️ 34 بار دیکھا گیا
پشاور پولیس لائنز دھماکا: خودکش حملہ آور پولیس کی وردی میں تھا، آئی جی
پشاور (ڈیلی اردو/اے ایف پی) انسپکٹر جنرل کے پی کے پولیس کے مطابق پولیس کی وردی میں ملبوس حملہ آور تنہا نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا نیٹ ورک ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس خودکش حملے کے بعد پولیس لائن کے اندر اہلکاروں سے بھی تفتیش جاری ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ نے پشاور خود کش حملے میں سکیورٹی کی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے پولیس کی وردی میں ملبوس ہونے کی وجہ سے خود کش حملہ آور کی تلاشی نہیں لی تھی۔ پیر کے روز کیے گئے اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں پولیس کے سربراہ معظم جاہ انصاری نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا، ”ڈیوٹی پر موجود عملے نے حملہ آور کی چیکنگ نہیں کی تھی کیونکہ وہ پولیس کی وردی میں تھا۔ یہ سکیورٹی انتظامات میں کوتاہی تھی۔‘‘
پولیس لائنز دہشتگردی واقع میں میرے 100 شیردل بچوں کی شہادت کا بھرپور جواب دیں گئے۔ آئی جی پی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری pic.twitter.com/DS582oI6gv
— KP Police (@KP_Police1) February 2, 2023
آئی جی انصاری کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے اس دہشت گرد کے سر کے حفاظتی کیمروں سے حاصل کردہ تصاویر کے ساتھ موازنے کے بعد پولیس کو اس بارے میں اب ‘بہتر اندازہ‘ ہو گیا ہے کہ یہ خود کش بمبار کون تھا۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے اس حملے کی منصوبہ بندی اکیلے نہیں کی تھی، ”اس کے پیچھے ایک پورا نیٹ ورک ہے۔‘‘
سکیورٹی حکام اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ شہر کے حساس ترین علاقوں میں سے ایک میں پولیس لائن میں حفاظتی انتظامات کی اتنی بڑی خلاف ورزی کیسے ممکن ہوئی، وہ بھی اس وقت جب انٹیلیجنس اور انسداد دہشت گردی کے محکموں کے دفاتر بھی وہیں ہیں اور یہ جگہ علاقائی سیکرٹریٹ کے بھی بالکل قریب ہے۔
پشاور میں یہ خود کش بم حملہ گزشتہ کئی سالوں کے دوران پاکستان کے کسی بھی شہر میں کیا گیا سب سے ہلاکت خیز اور 2021 ء میں کابل پر افغان طالبان کے دوبارہ قبضے کے بعد سے خطے میں خونریز حملے پھر شروع ہو جانے کے بعد سے اب تک کا بدترین حملہ ہے۔
پشاور سٹی پولیس کے ایک سینئر اہلکار نے بدھ کے روز اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ حکام اس امکان کی بھی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا پولیس کمپاؤنڈ کے اندر موجود افراد میں سے بھی کسی نے اس حملے کو منظم کرنے میں عسکریت پسندوں کی مدد کی۔ اس اہلکار کا کہنا تھا، ”ہم نے پولیس لائن (ہیڈ کوارٹر) سے لوگوں کو حراست میں لیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ دھماکہ خیز مواد اندر کیسے پہنچا اور یہ بھی دیکھا جا سکے کہ آیا خود پولیس کا اپنا کوئی اہلکار بھی اس حملے میں ملوث تھا۔‘‘
اس پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ کم از کم 23 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے کچھ کا تعلق افغانستان کی سرحد سے متصل سابقہ قبائلی علاقوں سے ہے۔
اس حملے نے ماضی میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا شکار رہنے والے پشاور شہر کو ایک مرتبہ پھر لہولہان کر دیا ہے۔ پشاور ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کا ایک بڑا ہدف تھا۔ تاہم پھر ایک فوجی آپریشن کے ذریعے ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا تھا اور وہاں سے انہوں نے افغانستان کا رخ کر لیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج کے انخلا اور طالبان کے کابل پر دوبارہ قبضے کے بعد سے عسکریت پسندوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ اسلام آباد پاکستان کی قومی سرحدوں کو محفوظ بنانے میں ناکامی کا الزام کابل پر بھی لگاتا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستانی سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کی جانب سے کم یا درمیانی سطح کے مسلح حملوں کا نشانہ بن رہی ہیں۔
ان حملوں کی ذمہ داری زیادہ تر ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ دولت اسلامیہ کی مقامی شاخ کی طرف سے بھی قبول کی جاتی ہے لیکن بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا باعث بننے والے حملے بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔
خیال رہے کہ ٹی ٹی پی مہمند شاخ کے دو اہم کمانڈرز سربکف مہمند اور عمر مکرم خراسانی کی جانب سے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
دونوں کمانڈرز نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ حملہ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر عمر خالد خراسانی (اصل نام عبدالولی) کی ہلاکت کا بدلہ ہے اور یہ خودکش حملہ مہمند سے ہی تعلق رکھنے والے 25 سالہ طالبِ علم حذیفہ نے کیا۔
تاہم کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اس حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ مساجد اور عام لوگوں پر حملے نہیں کرتے۔ تاہم پولیس نے کہا ہے کہ حکام اس پہلو سے بھی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے میں کوئی ایسے عناصر بھی ملوث ہیں، جو ماضی میں ٹی ٹی پی سے منسلک رہے ہوں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
وسطی کرم میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، متعدد دہشتگرد ہلاک اور زخمی
13/September/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں بلوچستان میں 100 سرکاری ملازمین برطرف
13/September/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں دہشتگردوں کے ٹھکانے پر کارروائی، اسلحے کا بڑا ذخیرہ برآمد
13/September/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
کراچی میں کارروائی، ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک
13/September/2026 👁️ 76 بار دیکھا گیا
باڑہ میں سیکیورٹی آپریشن، دو مقامی کمانڈروں سمیت 4 دہشتگرد ہلاک
13/September/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں پرانا مارٹر گولہ پھٹنے سے 2 بچے زخمی
13/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26289 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15535 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11824 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9128 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7413 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5152 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C