13/February/2022

پنجگور حملہ: دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کا گٹھ جوڑ تورنا ضروری ہے، آرمی چیف قمر باجوہ

👁️ 27 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پنجگور حملہ: دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کا گٹھ جوڑ تورنا ضروری ہے، آرمی چیف قمر باجوہ

پنجگور حملہ: دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں کا گٹھ جوڑ تورنا ضروری ہے، آرمی چیف قمر باجوہ

راولپنڈی (ڈیلی اردو) پاکستان میں بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں، ہمدردوں کے درمیان رابطوں کو توڑنا دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے ضلع پنجگور کا دورہ کیا اور پنجگور حملہ پسپا کرنے والے فوجی جوانوں کے ساتھ دن گزارا۔ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے استقبال کیا۔

بیان کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کو ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے میکنزم پر بریفنگ دی گئی جبکہ مقامی کمانڈر کی جانب سے سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ نے پنجگور کے قبائلی عمائدین سے بھی ملاقات کی، مادرِ وطن کا دفاع کرنے والے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں عمائدین کے کردار کو سراہا اور مقامی عمائدین کو علاقے کی خوشحالی، ترقی کے لیے فوج کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

بیان کے مطابق آرمی چیف نے جوانوں سے خطاب میں بر وقت اور مؤثر رد عمل کی تعریف کی اور مادر وطن کے دفاع کے لیے فرض شناسی میں عظیم قربانی پر شہدا کو خراج تحسین پیش کیا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ مقامی آبادی کی سکیورٹی اور تحفظ یقینی بنائیں گے۔ دہشتگردی کو شکست دینے کیلئے دہشتگردوں اور سہولت کاروں کا نیٹ ورک توڑنا ہو گا۔ بلوچستان میں ملک دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنائیں گے۔ جوان اپنی آپریشنل تیاریارں برقرار رکھیں۔ دہشت گردوں کو کسی بھی قیمت پر حاصل کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستانی فوج کا 13 حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

تین فروری کو پنجگور اور نوشکی میں دہشت گردوں کے سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر حملے میں ایک فوجی افسر سمیت سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے جب کہ فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے 13 حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سکیورٹی فورسز نے نوشکی اور پنجگور میں فوری کارروائی کر کے دونوں حملوں کو پسپا کیا، جس کے بعد نوشکی میں نو دہشتگرد ہلاک جبکہ اس دوران ایک افسر سمیت چار فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسری جانب ’پنجگور میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد دہشتگردوں کے حملے کو پسپا کیا گیا اور کچھ دہشتگرد علاقے سے بھاگ گئے۔

’بھاگنے والوں میں سے چار دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ دیگر چار کا گھیراؤ کیا گیا جنھیں آج ہلاک کیا گیا ہے کیونکہ وہ ہتھیار ڈالنے سے انکاری تھے۔ ‘

آئی ایس پی آر کے مطابق ‘پنجگور میں 72 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں پانچ فوجی ہلاک ہوئے اور چھ زخمی ہیں۔’

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ ‘ان حملوں سے منسلک تین دہشتگردوں کو گذشتہ روز بالگتر اور کیچ میں ہلاک کیا گیا تھا جن میں سے دو انتہائی مطلوب تھے۔’ ادھر بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس حملے میں شامل اس کے تمام 16 فدائین ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ دو فروری کی شب بلوچستان کے دو مقامات پنجگور اور نوشکی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹرز پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

حملوں میں 100 سے زیادہ اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ترجمان نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں نوشکی اور پنجگور میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ تنظیم کی مجید بریگیڈ کی جانب سے کیے گئے حملوں میں فوج کے تقریباً 100 اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم حکام نے بی ایل اے کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C