05/September/2021

کوئٹہ میں خودکش دھماکا، 4 ایف سی اہلکار ہلاک، 20 زخمی، ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کرلی

👁️ 34 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوئٹہ میں خودکش دھماکا، 4 ایف سی اہلکار ہلاک، 20 زخمی، ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ میں خودکش دھماکا، 4 ایف سی اہلکار ہلاک، 20 زخمی، ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کرلی

کوئٹہ (ڈیلی اردو/وی او اے/بی بی سی) صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے نواحی علاقے میں ایک خودکش حملے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کم از کم چار اہل کار ہلاک جب کہ 20 زخمی ہو گئے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق تین سیکیورٹی اہل کاروں کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ خودکش حملے میں دو شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ایک خودکش دھماکہ تھا جائے جب کہ جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر اور دیگر اعضا برآمد کر لیے گئے ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے ایف سی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کوئٹہ کے مستونگ روڈ پر ایف سی اہلکاروں کو بارودی جیکٹ اور بارود سے بھرے موٹرسائیکل کے ذریعے ہدف بنایا۔

نیو سریاب پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ خودکش حملہ صبح ساڑھے سات بجے کوئٹہ مستونگ روڈ پر سونا خان چیک پوسٹ کے قریب ہوا۔

دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دور دور تک اس کی آواز سنائی دی گئی۔

اہلکار کے بقول حملہ اس وقت ہوا جب ایف سی کی چار گاڑیوں میں اہلکار معمول کے مطابق ہزار گنجی سبزی منڈی جانے والے ہزارہ کمیونٹی کے مزدوروں کو سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

ایسے میں موٹر سائیکل پر سوار ایک خودکش حملہ آور ایف سی کی گاڑیوں کے قریب آیا اور خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں ایف سی کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو سی ایم ایچ اور ایف سی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر انسانی اعضا بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک موٹر سائیکل کے ٹکڑے بھی قرب و جوار میں نظر آرہے تھے۔ ان شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے میں سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ ان کے چار موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ان واقعات میں اب تک ایف سی اور پولیس کے تقریباً 27 اہلکار ہلاک جب کہ کئی زخمی ہو چکے ہیں۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کوئٹہ میں فورسز پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور انھوں نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ امن کے مکمل حصول تک جاری رہے گی۔ صوبائی وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شرپسندی کے ایسے واقعات سے فورسز کا مورال پست نہیں ہوگا۔

چار ہفتوں میں کوئٹہ میں دوسرا بڑا دھماکہ

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چار ہفتوں کے دوران یہ دوسرا بڑا دھماکہ تھا۔ اس سے قبل کوئٹہ شہر کے اندر سرینا ہوٹل کے قریب 8 اگست کو ایک دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور آٹھ اہلکاروں سمیت 25 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان واقعات کے علاوہ بھی کوئٹہ میں اس دوران تین چھوٹے دھماکے ہوئے تھے۔ ان چار ہفتوں کے دوران بلوچستان میں یہ دوسرا خود کش حملہ تھا۔ اس سے قبل ایک خود کش حملہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ہوا تھا، جس میں سرکاری حکام کے مطابق چار بچے ہلاک ہوئے تھے۔

اس دھماکے میں چینی انجنیئروں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں حکام کے مطابق ایک چینی شہری زخمی ہوا تھا۔ گوادر میں ہونے والے خود کش دھماکے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے نے قبول کی تھی۔

بلوچستان میں بم دھماکوں اور اس نوعیت کے واقعات کا سلسلہ سنہ 2000 سے شروع ہوا تھا جو کہ کمی و بیشی کے ساتھ اب بھی جاری ہیں۔

کوئٹہ

رواں برس 14 جون کو کوئٹہ میں شدت پسندوں کی طرف سے کیے گئے ایک حملے میں ایف سی کے چار اہلکار مارے گئے تھے جبکہ 11 جون کو بھی بلوچستان کے ضلع خاران میں انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن (آئی بی او) کے دوران ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

مئی کے اوائل میں بلوچستان کے سرحدی علاقے ژوب میں ‘سرحد پار سے ہونے والے ایک حملے’ کے نتیجے میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے چار جوان ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے تھے۔

اس وقت پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ افعانستان کی جانب سے شدت پسندوں نے حملہ اُس وقت کیا جب ایف سی کے جوان پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے۔

‘افغان طالبان کے دوبارہ افغانستان میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی کے حملے بھی بڑھ گئے ہیں‘

دفاعی امور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے اگست کے مہینے کے بعد کوئٹہ میں ہونے والے اس خود کش حملے کو ایک بڑا واقعہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹرینڈ کافی عرصے سے چل رہا تھا اور متعدد حملے تحریک طالبان پاکستان کے نام سے ہورہے تھے۔ ‘افغان طالبان کے دوبارہ افغانستان میں آنے کے بعد ٹی ٹی پی کے بہت سارے بیانات آئے اور ان کے حملے بھی بڑھ گئے ہیں’۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ خیبرپختونخوا کے دوسرحدی اضلاع میں حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور بنوں کے علاقے سے بھی بد امنی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ عامر رانا کا کہنا تھا کہ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد ٹی ٹی پی کو حوصلہ ملا ہے۔

عامر رانا نے کہا کہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی اور اس کے حملوں کے بارے میں اپروچ واضع نہیں ہے سوائے اس کے کہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور پچھلے دو تین مہینوں میں متعدد کارروائیاں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توقع یہ تھی کہ طالبان کے آنے کے بعد ایسی کاروائیاں پاکستان میں ختم ہوں گی لیکن ابھی تک ایسی صورتحال دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ طالبان کے آنے کے بعد ایسی کاروائیوں کے خاتمے کے بارے میں جو تجزیے تھے وہ بھی ابھی تک درست ثابت نہیں ہوئے۔

پاکستان کی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘بظاہر ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے جس طرح ایف سی کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے پیچھے تحریک طالبان پاکستان ہو سکتی ہے۔’

ان کے مطابق ‘انڈیا کا بھی مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان کی سرحدیں مشکلات میں رہیں۔’

سابق لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسود نے تجویز دی ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اپنے اہلکاروں کو مسلح کرنا ہو گا، سرحدوں کو محفوظ بنانا ہو گا اور سرحد کے اُس طرف (افغانستان) سے آنے والوں پر کڑی انٹیلیجنس اور نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C