آسٹریلیا نے حزب اللہ کو ‘ دہشت گرد تنظیم’ قرار دے دیا
👁️ 18 بار دیکھا گیا
آسٹریلیا نے حزب اللہ کو ‘ دہشت گرد تنظیم’ قرار دے دیا
کینبرا (ڈیلی اردو/اے ایف پی) آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ ملک کے لیے” حقیقی اور باوثوق اور معتبر‘‘ خطرہ بن گیا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور جرمنی ایرانی حمایت یافتہ اس گروپ پر پہلے ہی پابندی عائد کرچکے ہیں۔
آسٹریلیا نے بدھ کے روز کہا کہ وہ حزب اللہ کو ” دہشت گرد تنظیموں ‘‘ کی فہرست میں شامل کرنے جارہا ہے۔ آسٹریلیا اس طرح ان ملکوں کی صف میں شامل ہوجائے گا جنہوں نے اس ایرانی حمایت یافتہ شیعہ عسکریتی گروپ پر پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔
متعدد دیگر مغربی حکومتیں حزب اللہ کو دہشت گردتنظیم قرار دیتی ہیں۔ تاہم بعض حکومتیں اس کے سیاسی دھڑے پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ایسا کرنے سے لبنان کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ حزب اللہ کا لبنان پر کافی اثر و رسوخ ہے۔
آسٹریلیا کی طرف سے حزب اللہ پر پابندی عائد کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس تنظیم کی رکنیت حاصل کرنا یا اسے مالی امداد فراہم کرنا اس ملک میں قانوناً جرم ہوگا۔ آسٹریلیا میں لبنانی کمیونٹی بڑی تعداد میں آباد ہے۔
آسٹریلیا کی وزیر داخلہ کارین اینڈریوز نے ایک بیان میں کہا،”حکومت تشدد کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بے قصور افراد کے قتل کو، خواہ وہ مذہبی یا سیاسی کسی بھی وجہ سے کیا گیا ہو، کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے دہشت گردانہ حملوں کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کو امداد فراہم کرتا ہے۔ ” یہ آسٹریلیا کے لیے ایک حقیقی اور باوثوق خطرہ ہے۔‘‘
آسٹریلیا نے حزب اللہ کی مسلح یونٹوں پر پہلے سے ہی عائد پابندیوں کی مدت میں بھی توسیع کردی ہے۔ یہ پابندیاں سن 2003 سے نافذ ہیں۔
حزب اللہ کیا ہے؟
ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسند تحریک حزب اللہ کا قیام لبنان کی خانہ جنگی کے دوران سن 1982میں عمل میں آیا تھا۔ اس گروپ نے سن 2006 میں بھی اسرائیل کے ساتھ ایک خونریز جنگ لڑی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ ایران اس گروپ کو مالی امداد اور عسکری تربیت فراہم کرتا ہے۔ فی الوقت لبنان کے ایک بڑے حصے پر اس گروپ کا کنٹرول ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے ایک طویل عرصے سے حزب اللہ پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ جرمنی نے بھی گزشہ برس مئی میں اس پر پابندی عائد کردی تھی۔ جس کے بعد سے جرمنی کی سرزمین پر اس کی تمام سرگرمیاں بند کردی گئیں۔
تاہم جرمنی کی داخلی انٹلیجنس ایجنسی کا خیال ہے کہ ملک میں حزب اللہ کے تقریباً ایک ہزار پچاس اراکین اور حامی اب بھی سرگرم ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
جنوبی کوریا: پانچ لاکھ ڈرون جنگجو تیار کیے جائیں گے
27/June/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
یوکرین کا روس پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ
27/June/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
اسرائیل اور لبنان میں امریکی ثالثی سے فریم ورک معاہدہ طے
27/June/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں سکیورٹی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، دو حملہ آور ہلاک
27/June/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
جنگ بندی کیخلاف ورزی: امریکہ کا ایران میں اہداف پر فضائی حملہ
27/June/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
50 سال بعد اسرائیل نے اینتیبے آپریشن کے خفیہ راز بے نقاب کر دیے
27/June/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8858 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4632 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3311 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2480 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2137 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1927 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C