افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان اب دہشتگردوں کا سب سے بڑا گروپ ہے، اقوام متحدہ
👁️ 48 بار دیکھا گیا
افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان اب دہشتگردوں کا سب سے بڑا گروپ ہے، اقوام متحدہ
نیو یارک (ڈیلی اردو/ڈی پی اے) اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ رپورٹ اسلام آباد کے اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے کہ انہیں پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند گروپوں کا اتحاد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں اب ”سب سے بڑا دہشت گرد گروپ” ہے اور سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرنے کے لیے اسے افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی تائید و حمایت بھی حاصل ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کو اب القاعدہ جیسے دہشت گرد نیٹ ورک سے بھی آپریشنل اور لاجیسٹک مدد مل رہی حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے اس حوالے سے بدھ کے روز اپنی جائزہ رپورٹ ایک ایسے وقت جاری کی، جب ٹی ٹی پی کی طرف سے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے اور حالیہ ہفتوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹ مزید کیا کہتی ہے؟
دہشت گرد گروپ داعش، القاعدہ اور طالبان کو مانیٹر کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم نے اپنی 15ویں رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کی ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”ٹی ٹی پی افغانستان میں اب بڑے پیمانے پر سرگرم عمل ہے اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے اکثر افغانوں کو استعمال کرتی ہے۔” رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اب دہشت گرد گروپ تحریک طالبان پاکستان کے چھ سے ساڑھے چھ ہزار کے درمیان جنگجو ہیں، جو افغان طالبان کی سرپرستی میں اپنی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے پوری طرح سے آزاد ہیں۔
رپورٹ کہتی ہے کہ افغانستان کے طالبان حکمراں، ”ٹی ٹی پی کو ایک دہشت گرد گروپ کے طور پر نہیں دیکھتے اور دونوں میں بہت قربت ہے۔ ان کے لیے ٹی ٹی پی پر واجب الادا قرض بہت اہم ہے۔”
رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ ”ٹی ٹی پی نے پاکستان کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں، خاص طور پر سن 2021 میں 573 حملوں سے بڑھ کر سن 2022 میں حملوں کی تعداد 715 تک پہنچ گئی، جبکہ سن 2023 میں حملوں کی تعداد 1,210 ہو گئی۔ یہی رجحان 2024 میں بھی جاری ہے۔” رپورٹ میں رواں برس 28 مئی تک کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ سے اسلام آباد کے اس موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ کابل پاکستان کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس طرح کے الزامات کو بار بار دہرایا ہے۔
یہ رپورٹ پاکستان کی اس تشویش کی بھی تائید کرتی ہے کہ افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد رات میں دیکھنے کی صلاحیت والے آلے سمیت نیٹو کے ہتھیار ٹی ٹی پی کو فراہم کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر دہشت گردانہ حملوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
ٹی ٹی پی کے القاعدہ سے روابط
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے وہ علاقائی کارندے، جن کے طالبان سے طویل مدتی تعلقات رہے ہیں، پاکستان کے اندر ہائی پروفائل دہشت گردانہ حملوں کو انجام دینے کے لیے ٹی ٹی پی کی مدد کر رہے ہیں۔
طالبان نے اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ پر کوئی فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا، تاہم ماضی میں وہ ایسی رپورٹس کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی کے کارندوں کو مقامی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر القاعدہ کے کیمپوں میں تربیت دی جا رہی ہے، جو دہشت گرد تنظیم نے ننگرہار، قندھار، کنڑ اور نورستان جیسے متعدد سرحدی صوبوں میں قائم کیے ہیں۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ایک رکن نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ القاعدہ کے ساتھ ”زیادہ تعاون” ٹی ٹی پی کو ”غیر علاقائی” گروپ میں تبدیل کر سکتا ہے، یعنی اسے خطے سے باہر بھی وسعت دے سکتا ہے۔
اسلام اسٹیٹ خراسان اور ٹی ٹی پی
رپورٹ کے مطابق خطے میں ایک اور سرگرم دہشت گرد گروپ ‘اسلامک اسٹیٹ خراسان’ (آئی ایس -کے) ہے اور اس سے وابستہ تنظیموں کے چار ہزار سے چھ ہزار کے درمیان جنگجو ہونے کا تخمینہ ہے۔ ایک اور انداز کے مطابق ان کی تعداد دو ہزار سے ساڑھے تین ہزار کے درمیان ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس گروپ کے بہت سے لوگوں نے مبینہ طور پر وزارت داخلہ، دفاع اور انٹیلیجنس کی مرکزی وزارتوں میں دراندازی کر لی ہے اور وہ ٹی ٹی پی جیسے دیگر گروپوں میں بھی خفیہ طور پر اپنے ممبران شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کابل کے طالبان کا دعوی ہے کہ اس کی کارروائیوں نے آئی ایس کے اہم اہلکاروں کو ملک کی سرحدوں کے پار دھکیل دیا ہے اور اسی حوالے سے رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس نقل مکانی سے پاکستان، ایران اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں میں سکیورٹی کی صورتحال پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح افغانستان میں آئی ایس کے نے اب اپنی موجودگی کو محدود کیا ہے اور اپنی بیرونی کارروائیوں کو وسعت دی ہے۔ اس نے اپنے ”ماہر کارندوں اور خودکش بمباروں کو یورپ، روسی فیڈریشن اور دیگر پڑوسی ممالک کی جانب بڑھنے کی ترغیب دی ہے۔”
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام میں امریکی فضائی حملہ، داعش کا سینئر رہنما ہلاک
25/June/2026 👁️ 61 بار دیکھا گیا
جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ
25/June/2026 👁️ 66 بار دیکھا گیا
بنوں: سرکاری سکول کے استاد اور ایف سی اہلکار اغوا، پولیس اسٹیشن پر ڈرون حملہ
25/June/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف کارروائی روکنے کی قرارداد منظور
25/June/2026 👁️ 118 بار دیکھا گیا
لوئر دیر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 6 مطلوب دہشت گرد ہلاک
25/June/2026 👁️ 110 بار دیکھا گیا
ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے پر فریقین کے متضاد بیانات
25/June/2026 👁️ 129 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8853 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4619 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3305 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2474 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2129 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1920 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C