امریکی صدر ٹرمپ نے وزیرِ دفاع مارک ایسپر کو عہدے سے ہٹا دیا
👁️ 27 بار دیکھا گیا
امریکی صدر ٹرمپ نے وزیرِ دفاع مارک ایسپر کو عہدے سے ہٹا دیا
واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِ دفاع مارک ایسپر کو عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے ایک ٹوئٹ کے ذریعے مارک ایسپر کو عہدے سے ہٹانے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وہ ان کی خدمات کے مشکور ہیں۔
I am pleased to announce that Christopher C. Miller, the highly respected Director of the National Counterterrorism Center (unanimously confirmed by the Senate), will be Acting Secretary of Defense, effective immediately..
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) November 9, 2020
صدر ٹرمپ نے انتہائی اہم وزارت پر فائز عہدے دار کو بذریعہ ٹوئٹ ایسے موقع پر ہٹایا ہے جب اُنہیں انتخابات میں ناکامی کا چیلنج درپیش ہے۔
امریکی صدارتی انتخابات کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق جو بائیڈن امریکہ کے 46 ویں صدر منتخب ہو گئے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے انتخابی ناکامی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
پیر کو صدر ٹرمپ نے مارک ایسپر کو عہدے سے ہٹانے کے بعد ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ وہ کرسٹوفر سی ملر کو قائم مقام وزیرِ دفاع تعینات کرنے کا اعلان کرتے ہیں جس کا اطلاق فوری طور پر ہو گا۔
کرسٹوفر ملر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں۔
توقع کی جا رہی تھی کہ مارک ایسپر انتقالِ اقتدار کے دوران اور نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری تک عہدے پر خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ تاہم واشنگٹن میں گزشتہ کئی ہفتوں سے اُنہیں عہدے سے ہٹانے کی افواہیں بھی سرگرم تھیں۔
محکمۂ دفاع کے حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ کے بعد اُن کے چیف آف اسٹاف مارک میڈیوز نے مارک ایسپر کو ایک فون کال کر کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق آگاہ کیا۔
مارک ایسپر نے چار نومبر کو ‘ملٹری ٹائمز’ نامی ادارے کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم اُنہیں توقع ہے کہ وہ کسی بھی وقت عہدے سے ہٹا دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ کے بعد مذکورہ ادارے نے پیر کی دوپہر مارک ایسپر کے اس انٹرویو کو بھی شائع کر دیا ہے۔
مارک ایسپر کا اس انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ “میں وہ کام کروں گا جو میں نے ہمیشہ کیا ہے۔ میں نے اپنے عہدے پر رہنے کے دوران اپنی حیثیت برقرار رکھی اور کسی بھی شخص کے سامنے ہاں میں ہاں نہیں ملائی۔”
مارک ایسپر کے ناقد اور بعض اوقات صدر ٹرمپ بھی اُنہیں اکثر ‘یسپر’ کے نام سے پکارتے تھے۔ غصے کا اظہار کرنے کے لیے مارک ایسپر کو یسپر کہا جاتا تھا۔
یاد رہے کہ مارک ایسپر جولائی 2019 سے امریکہ کے وزیرِ دفاع کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور انہیں صدر ٹرمپ نے اس عہدے پر تعینات کیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بدخشاں میں طالبان کے کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، 20 میزائل داغے جانے پر اردن کا بیان
09/September/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
امریکا کا 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملوں کی ویڈیوز بھی جاری
09/September/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، اہم شاہراہوں پر آمدورفت بند
09/September/2026 👁️ 101 بار دیکھا گیا
ایران : سیستان و بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 9 گرفتار
08/September/2026 👁️ 116 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26281 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15528 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11817 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9111 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7402 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5110 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C