بھارتی ریاست منی پور تشدد کی رپورٹ شائع کرنے پر صحافیوں کے خلاف مقدمہ
👁️ 156 بار دیکھا گیا
بھارتی ریاست منی پور تشدد کی رپورٹ شائع کرنے پر صحافیوں کے خلاف مقدمہ
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) صحافیوں کی ایک کمیٹی نے منی پور کا دورہ کرکے وہاں تشدد کے دوران میڈیا کے کردار پر اپنی رپورٹ شائع کی تھی۔ ریاست کی بی جے پی حکومت نے ناراض ہو کر صحافیوں پر ہی کیس دائر کر دیا لیکن سپریم کورٹ نے آج انہیں عارضی راحت دے دی۔
سپریم کورٹ نے بھارتی صحافیوں کی تنظیم ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کی عرضی پر بدھ 6 ستمبر کو ہنگامی سماعت کرتے ہوئے ہوئے اس کے چار اراکین کے خلاف کسی بھی طرح کی پولیس کارروائی پر فوری روک لگانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 11ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔
منی پور کی بی جے پی حکومت نے ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے چار عہدیداروں کے خلاف ‘دو فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے’سمیت کئی الزامات کے تحت دو کیس دائر کیے تھے۔
منی پور کے وزیر اعلی این بیرین سنگھ نے کہا تھا کہ ریاست میں ‘تشدد کے لیے مشتعل کرنے’ کے الزام میں گلڈ کے صدر اور تین اراکین کے خلاف کیس دائر کیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کے خلاف ایک دوسرا کیس ہتک عزت کے سلسلے میں بھی دائر کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس حوالے سے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چاروں صحافیوں کو عارضی راحت دے دی۔
‘منی پور حکومت کا اقدام صحافیوں کو ڈرانے کی کوشش ہے’
پریس گلڈ آف انڈیا کے اراکین کے خلاف منی پور حکومت کی جانب سے مقدمہ درج کرانے کی بھارت کی متعدد صحافتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔
پریس کلب آف انڈیا کے صدر اوما کانت لکھیڑا نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کہ تشدد زدہ منی پور میں امن وامان بحال کرنا ریاستی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے اس وقت وہ حقائق کو کچلنے کی قصداً کوشش کررہی ہے۔ وہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حقائق کو منظر عام پر لانے والوں کو ہی نشانہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے پریس گلڈ آف انڈیا کی کوششوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بیرین سنگھ حکومت کا اقدام صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش ہے۔ جس کی پرزور مذمت کی جانی چاہئے۔
دہلی یونین آف جرنلسٹس نے بھی منی پور حکومت کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ اس نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ چاروں صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر فوراً واپس کی جائے۔
پریس کلب آف ممبئی، انڈین وومن پریس کارپس نے بھی صحافیوں کے خلاف کارروائی کی مذمت کی ہے۔
کیا ہے معاملہ؟
پریس گلڈ آف انڈیا کے عہدیداروں سیما گوہا، سنجے کپور، بھارت بھوشن اور اس کی صدر سیما مصطفی نے اگست کے پہلے ہفتے میں منی پور کا دورہ کیا اور متعدد صحافیوں، سول سوسائٹی کے اراکین، تشدد سے متاثرہ خواتین، قبائلی رہنماوں اور سیکورٹی فورسز کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے اپنی تفتیش کی بنیاد پر 24صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ 2ستمبر کو جاری کی لیکن اس کے بعض نتائج پر منی پور حکومت نے سخت اعتراض کیا اور چاروں صحافیوں کے خلاف کیس دائر کردیا۔
دراصل رپورٹ شائع ہونے کے بعد منی پور کے ایک شخص نے شکایت کی کہ رپورٹ میں جس جلتے ہوئے مکان کو کوکی قبیلے کے ایک شخص کا بتایا گیا ہے وہ ریاستی حکومت کے ایک محکمے کا دفتر تھا۔ ایڈیٹرز گلڈ نے اپنی بھول تسلیم کرتے ہوئے ترمیم شدہ رپورٹ ایکس پر شائع کی۔ لیکن وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ نے پریس کانفرنس طلب کرکے ان صحافیوں پر کیس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔
EGI releases the Report of the Fact-Finding Mission on Media’s Reportage of the Ethnic Violence in Manipur.
Report attached with this post, as well as available for download at the link below https://t.co/Q1cwQTfJmH 1/6 pic.twitter.com/hlTzJBD5QM
— Editors Guild of India (@IndEditorsGuild) September 2, 2023
رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
رپورٹ میں گلڈ نے تشدد کے دوران ریاست کی قیادت پر جانبداری کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے ایک فریق کا ساتھ دیا اور اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ رپورٹ کے مطابق”آج حال یہ ہے کہ ریاستی دارالحکومت امپھال میں اب ایک میتئی سرکار، میتئی پولیس اور میتئی بیوروکریسی ہے اور پہاڑوں میں رہنے والے کوکی قبائل کو ان پر ذرا بھی بھروسہ نہیں ہے۔”
رپورٹ میں واضح طورپر کہا گیا ہے کہ منی پور میں تشدد کے دوران ریاست کے صحافیوں نے یک طرفہ رپورٹیں لکھیں، جنہیں ان کے مدیران نے مقامی انتظامیہ، پویس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے ساتھ بات کرکے دوبارہ تصدیق نہیں کی۔ رپورٹ کے مطابق حالانکہ تشدد کی وجہ سے یہ ممکن بھی نہیں تھا۔
منی پور میں میڈیا کے منظر نامے کا ذکر کر تے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ میڈیا ادارے میتئی اکثریتی علاقے امپھال میں ہیں اور تشدد کے دوران یہ “میتئی میڈیا”میں تبدیل ہوگیا تھا۔انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے صحافیوں کے لیے اپنے دفتر سے رابطہ کرنا ممکن نہیں تھا۔لیکن اگر ان کی رپورٹ کسی طرح پہنچ بھی جاتی تھی تو اخبارات اس کے مخصوص حصوں کو ہی اخبارات استعمال کرتے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
شام : سابق نظام سے وابستہ جاسوسی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں، 2 افراد گرفتار، دوسری سیل بھی پکڑی گئی
06/September/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
یمنی فوج نے حیس کو حوثیوں کے قبضہ سے آزاد کردیا، مکمل کنٹرول کا اعلان
06/September/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
مستونگ میں قومی شاہراہ سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد
06/September/2026 👁️ 59 بار دیکھا گیا
ہرات : نوجوان کو مبینہ تشدد کے بعد طالبان نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا
06/September/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
بنوں میں دہشتگردوں کی فائرنگ، دو بھائی ہلاک
06/September/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
چھتیس گڑھ کے کونڈا گاوں میں نکسلی ڈمپ سے 30 کلو دھماکہ خیز مواد اور پستول برآمد
06/September/2026 👁️ 70 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26276 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15525 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11808 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9102 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7393 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5088 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C