تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے خارج
👁️ 243 بار دیکھا گیا
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے خارج
لاہور (ڈیلی اردو) پنجاب حکومت نے جمعرات کو مذہبی اور سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ مولانا سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول کی لسٹ سے نکالنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ سعد رضوی کے علاوہ تحریکِ لبیک سے منسلک درجنوں افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے ہیں۔
فورتھ شیڈول ایک ایسی فہرست ہے جس میں ایسے افراد کے نام ڈالے جاتے ہیں جن پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دہشت گردی یا فرقہ واریت پھیلانے کا شبہ ہو۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق علامہ سعد رضوی کا نام ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش پر فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ وہ اس تنظیم کے سربراہ ہیں جسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ سات نومبر کو تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اس لیے تنظیم کے سربراہ کا نام بھی فورتھ شیڈول سے خارج کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت سے ہونے والے ایک معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں کو رہا جبکہ اس تنظیم کا نام کالعدم تنظیموں سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد ٹی ایل پی نے وزیرآباد میں جاری دھرنا ختم کر کے واپس لاہور کا رخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے سے متعلق حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے جماعت کو قومی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی جبکہ اس جماعت کا کہنا ہے کہ حکومت کا تحریک لبیک کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا اقدام اپنی جگہ لیکن جب تک جماعت کے کارکنوں کا نام فورتھ شیڈول سے عملی طور پر نہیں نکالے جاتے اور ان کے بینک اکاؤنٹس بحال نہیں کیے جاتے اس وقت تک ان کے تحفظات دور نہیں ہوں گے۔
جماعت کے سینکڑوں کارکنان کے نام فورتھ شیڈول سے نکال دیے گئے
صوبہ پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار کے مطابق تحریک لبیک کے جن افراد کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے گئے ہیں ان میں زیادہ کا تعلق لاہور، گوجرنوالہ، گجرات اور راولپنڈی سے ہے۔
اہلکار کے مطابق سٹیٹ بینک اور نادرا اور پاسپورٹ آفس کو بھی اس پیش رفت کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا ہے کیونکہ فورتھ شیڈول میں ہونے کی وجہ سے ان افراد کے نہ صرف بینک اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے بلکہ ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کر دیے گئے تھے۔
تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن مفتی عمیر کے مطابق ان کی جماعت کے سات سو سے زیادہ افراد فورتھ شیڈول کی فہرست میں شامل تھے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس شخص کا نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل ہوتا ہے وہ شخص متعقلہ تھانے میں اطلاع دیے بغیر کسی دوسرے شہر میں بھی نہیں جاسکتا۔
مفتی عمیر کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے جن افراد کے نام فورتھ شیڈول میں رہ گئے ہیں ان کے بارے میں متعقلہ حکام کو آگاہ کررہے ہیں اور ان حکام نے ان کی جماعت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے زیادہ تر افراد کے بینک اکاونٹس اس سال اپریل میں اس وقت بلاک کیے گئے جب تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے درجنوں ایسے کارکن ہیں جن کے بینک اکاونٹس دو تین سال پہلے سے ہی بلاک ہیں۔
’مقدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘
تاہم قانونی ماہرین کے مطابق فورتھ شیڈول سے نکلنے کے باوجود سعد رضوی کے خلاف درج مقدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس کا کہنا ہے کہ علامہ سعد رضوی کا نام فورتھ شیڈول سے نکلنے کے باوجود ان کے خلاف جو مقدمات درج ہیں ان پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ تحریک لبیک کے سربراہ کی نظربندی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے اور جب بھی لاہور ہائی کورٹ کا کوئی بھی ڈویژن بینچ ان کی نظربندی سے متعلق درخواست کی سماعت کرے گا تو وہ سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کو سامنے رکھے گا جس میں عدالت عظمی نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی دفعات کو مدنظر رکھے۔
سعد رضوی کو کیوں گرفتار کیا گیا؟
سعد رضوی کو ان الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی جماعت کے کارکنان کو حکومت کے خلاف مظاہروں پر اکسایا جس کے دوران پُرتشدد کارروائیوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
لاہور ہائی کورٹ نے سعد رضوی کی نظربندی کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم پنجاب حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے نظربندی کے خاتمے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ دوبارہ لاہور ہائی کورٹ کو بھیج دیا تھا اور ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ اس معاملے کو دیکھے۔
سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کے دوران کم از کم چار پولیس اہلکار ہلاک جبکہ سینکڑوں اہلکار اور کارکن زخمی ہوئے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
حوثیوں کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات اور ہوائی اڈوں سے دور رہنے کی وارننگ، حملوں میں شدت کا خدشہ
18/October/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: فوجی افسر کی اہلیہ کے خلاف حساس معلومات غیر ملکی اداروں کو دینے کے الزام میں مقدمہ درج
18/October/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
ایتھوپیا کے علاقے تیگرائے میں کشیدگی بڑھ گئی، ڈرون حملوں کے بعد اریٹیریا کی فوج اور مقامی جنگجو پیچھے ہٹنے پر مجبور
18/October/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
امریکا کے تعاون سے ایران پر 36 ہزار بم گرائے، جوہری پروگرام تباہ کردیا،اسرائیلی وزیر دفاع کا دعویٰ
18/October/2026 👁️ 100 بار دیکھا گیا
خضدار: ماربل فیکٹری پر مسلح حملہ، مالک کے بیٹے سمیت 18 افراد اغوا، ایک مزدور زخمی
18/October/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
یمن میں تعز اور باب المندب کے محاذ گرم، جنوبی جائنٹس بریگیڈز کا حوثیوں کے خلاف نئے حملے کا دعویٰ
18/October/2026 👁️ 68 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26380 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15618 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11912 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9265 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7522 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5473 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C