17/August/2026

جرمنی میں ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی پناہ منسوخ کر دی

👁️ 97 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جرمنی میں ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی پناہ منسوخ کر دی

جرمنی میں ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی پناہ منسوخ کر دی

برلن (ڈیلی اردو) جرمنی میں شامی شہریوں سمیت ہزاروں پناہ گزینوں کے کیسز پر دوبارہ نظرثانی کا عمل جاری ہے، جس کے دوران متعدد افراد کی پناہ یا تحفظ کی حیثیت ختم یا واپس لیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جرمن حکومت کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں 8 ہزار 320 پناہ کے کیسز کا جائزہ لیا گیا، جن میں 23.2 فیصد کیسز میں پناہ کی حیثیت منسوخ یا واپس لے لی گئی۔

جرمن حکومت نے یہ اعداد و شمار بائیں بازو کے پارلیمانی گروپ کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جاری کیے۔ رپورٹ کے مطابق ان کیسز کی بڑی تعداد شامی شہریوں سے متعلق ہے۔

 

پناہ کی حیثیت ختم کرنے کی وجوہات

جرمنی میں کسی فرد کا پناہ کا درجہ اس وقت ختم کیا جاسکتا ہے جب اس کے آبائی ملک کے حالات میں بنیادی تبدیلی واقع ہوجائے۔ دوسری جانب اگر یہ ثابت ہوجائے کہ پناہ حاصل کرتے وقت درخواست گزار نے غلط معلومات فراہم کی تھیں تو اس کی پناہ واپس بھی لی جاسکتی ہے۔

شام میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ترکی، لبنان اور اردن سمیت مختلف ممالک میں مقیم سیکڑوں ہزار شامی شہری واپس اپنے ملک جاچکے ہیں۔ تاہم شام کے بعض علاقوں میں اب بھی سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں جبکہ رہائش اور بنیادی امداد کی کمی بھی برقرار ہے۔

 

شامی پناہ گزینوں کے کیسز کی دوبارہ جانچ

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے مہاجرت و پناہ نے جون سے شامی شہریوں کے پناہ کے معاملات کی جانچ کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ اس جائزے میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں جرمنی میں پناہ ملے 21 ماہ گزر چکے ہیں، جنہیں خصوصی تحفظ کی ضرورت نہیں رہی یا جن کے شام میں خاندانی اور سماجی روابط یا معاونت کا نظام موجود ہے۔

شام میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد جرمنی نے شامی شہریوں کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں کا عمل عارضی طور پر روک دیا تھا، تاہم بعد میں ملک کی صورتحال میں تبدیلی کے پیش نظر کیسز کی دوبارہ جانچ شروع کردی گئی۔

 

شام واپسی کے عمل میں تیزی نہیں

پناہ کی حیثیت ختم کیے جانے کے باوجود شامی شہریوں کو جرمنی سے واپس بھیجنے کا عمل فی الحال محدود ہے۔ جبری واپسی کے لیے شامی حکام کے ساتھ تعاون بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ایک شامی شہری کو جرمنی سے واپس بھیجا گیا، جبکہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں مزید 3 افراد کی واپسی عمل میں آئی۔

جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت سے وابستہ ماہر کلارا بونگر نے شام کی موجودہ صورتحال کو اب بھی غیر مستحکم قرار دیتے ہوئے شامی شہریوں کی جبری واپسی کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جرمنی میں مقیم شامی شہریوں کو مسلسل تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

 

شامی پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی

اعداد و شمار کے مطابق بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد جرمنی میں شامی شہریوں کی جانب سے پناہ کی نئی درخواستوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں تقریباً 5 ہزار شامی شہریوں نے پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں، جبکہ 2013 سے اب تک یہ تعداد 9 لاکھ 78 ہزار 761 تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ عرصے میں شامی پناہ کی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کی شرح بھی بڑھ کر 68.6 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ ماضی میں شامی شہریوں کی بیشتر درخواستیں منظور کرلی جاتی تھیں۔

جرمنی میں مقیم بڑی تعداد میں شامی شہری ایسے شعبوں میں کام کررہے ہیں جہاں افرادی قوت کی کمی ہے، جن میں ریٹیل، عارضی کیٹرنگ، ریستوران، صحت کی خدمات اور ترسیل سے متعلق شعبے شامل ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C